کسی سے دھیلے کا روادار رہا ہوں تو میرا سر اور آپ کے جوتے، سچائی بد تمیزی ہے تو آپ کی سوچ کا بھی اللہ حافظ ہے، ایک فقرے نے تن بدن میں آگ لگا دی

مصنف کا تعارف

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 376

یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 خوارجی جہنم واصل

افتتاحی تقریب کا منظر

اگلے روز میری توقع کے برعکس بہت لوگ افتتاحی تقریب میں شامل تھے جن میں کچھ خواتین بھی تھیں۔ راجن پور جیسے پسماندہ ضلع میں خواتین کا آنا بڑی بات تھی۔ افتتاح کے بعد شرکاء کو پر تکلف کھانا دیا گیا۔ ڈاکٹر عصمت افتتاح سے بہت خوش تھی اور مجھے شاباش دی۔ شیروانی نے بھی بڑی محنت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کیرم کی عالمی چیمپیئن کاظمہ: “جیت کے بعد باتیں کرنے والے مبارکباد دے رہے ہیں”

اجلاس کی تیاری

شام کو ہم سب سرکٹ ہاؤس اکٹھے بیٹھے اگلے پروگرام سرگودھا کی تیاری کو آخری شکل دے رہے تھے۔ ایکسین لوکل گورنمنٹ ڈی جی خاں محمد صفدر (اچھے انسان تھے۔ تعلق ایل سی ایس سروس سے تھا) بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے کا متن سامنے آ گیا

تنقید کا سامنا

میں نے ڈائریکٹر جنرل سے پوچھا؛ "سر! افتتاحی پروگرام کیسا تھا؟ کمی بیشی ہو تو اگلے پروگرام کو اور بہتر کر سکیں۔" کہنے لگا؛ "کھانا ٹھیک نہ تھا۔ لگتا ہے کہ پیسے بچائے گئے ہیں"۔ اُن کے اِس فقرے نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل معرکہ، پاکستان کہاں کھڑا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے؟

مدعا اور جواب

میں نے انہیں جواباً کہا؛ "سر! 20 ہزار کھانے کے بجٹ میں تقریباً 200 افراد نے چکن کڑاہی، کچن بریانی، کھیر اور کولڈ ڈرنکس کا مزا لیا ہے۔ 200 روپے پر ہیڈ۔ سر! کھانا جناب نے بھی خوب سیر ہو کر کھایا ہے۔" میں نے مزید کہا؛ "میں وزیر بلدیات پنجاب کا 5 سال سٹاف افسر رہا ہوں، پورے پنجاب سے کوئی افسر یا ماتحت کہہ دے کہ میں کسی سے دھیلے کا روادار رہا ہوں تو میرا سر اور آپ کے جوتے۔" ڈاکٹر عصمت خاموش رہی لیکن صفدر نے گواہی دی کہ یہ شخص ایسا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایرانی بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی کے بعد ایران کا ردِ عمل آگیا

معاملات کی مزید پیچیدگیاں

میں نے اُن سے کہا؛ "یہ پراجیکٹ میرا تخلیل کردہ ہے۔ میں خود کو اس سے الگ کر رہا ہوں۔" ڈاکٹر عصمت کا رنگ فق ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست مسترد

ملاقات کا وقت

آمنا سامنا؛ ڈاکٹر عصمت واپس لاہور آئی تو کہنے لگی؛ "آپ تو ڈی جی کے سامنے بالکل نہ جانا، وہ آپ سے سخت ناراض ہے۔" میں نے کہا؛ "میڈم سچائی آپ کے قریب بدتمیزی ہے تو آپ کی سوچ کا بھی اللہ حافظ ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: فیک انرولمنٹ ناقابل قبول، ایسے ضلع کے تعلیمی افسران کیخلاف زیرو ٹالیرنس ہوگی: وزیر تعلیم

ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات

ایک دن دل کڑا کرکے ڈی جی سے ملا اور کہا؛ "سر! اگر آپ کو میری شکل پسند نہیں تو مجھے 2 ماہ کی چھٹی دے دیں"۔ وہ بولے؛ "مجھے یہ بتاؤ وہ 70 ہزار روپے کہاں ہیں؟" میں نے جواب دیا؛ "وہ 70 ہزار روپے تو ڈائریکٹر کے پاس ہیں..."

یہ بھی پڑھیں: آڈیو لیک کیس: علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

معاملات کی وضاحت

مجھے وہ یہ کہہ رہی تھی کہ "ڈی جی سے مت ملنا، وہ بڑے ناراض ہیں تم سے"۔ جب ڈاکٹر عصمت کو بلایا گیا تو ان کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ میں نے کہا؛ "میڈم! پیسے خود رکھ کر نام میرا لگا دیا۔" ڈی جی بولا؛ "خاموش رہو۔ مجھے بات کرنے دو۔"

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...