کسی سے دھیلے کا روادار رہا ہوں تو میرا سر اور آپ کے جوتے، سچائی بد تمیزی ہے تو آپ کی سوچ کا بھی اللہ حافظ ہے، ایک فقرے نے تن بدن میں آگ لگا دی
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 376
یہ بھی پڑھیں: بھارتی گیٹ ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کے واقعے پر درج مقدمے میں نامزد ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا
افتتاحی تقریب کا منظر
اگلے روز میری توقع کے برعکس بہت لوگ افتتاحی تقریب میں شامل تھے جن میں کچھ خواتین بھی تھیں۔ راجن پور جیسے پسماندہ ضلع میں خواتین کا آنا بڑی بات تھی۔ افتتاح کے بعد شرکاء کو پر تکلف کھانا دیا گیا۔ ڈاکٹر عصمت افتتاح سے بہت خوش تھی اور مجھے شاباش دی۔ شیروانی نے بھی بڑی محنت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے نے سری لنکا کو ۹ وکٹوں سے شکست دے دی
اجلاس کی تیاری
شام کو ہم سب سرکٹ ہاؤس اکٹھے بیٹھے اگلے پروگرام سرگودھا کی تیاری کو آخری شکل دے رہے تھے۔ ایکسین لوکل گورنمنٹ ڈی جی خاں محمد صفدر (اچھے انسان تھے۔ تعلق ایل سی ایس سروس سے تھا) بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تباہ کن گرمی بے سبب تو نہیں
تنقید کا سامنا
میں نے ڈائریکٹر جنرل سے پوچھا؛ "سر! افتتاحی پروگرام کیسا تھا؟ کمی بیشی ہو تو اگلے پروگرام کو اور بہتر کر سکیں۔" کہنے لگا؛ "کھانا ٹھیک نہ تھا۔ لگتا ہے کہ پیسے بچائے گئے ہیں"۔ اُن کے اِس فقرے نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان میں قسط کی عدم ادائیگی پر دکاندار نے ماں بیٹی کو نہر میں پھینک دیا
مدعا اور جواب
میں نے انہیں جواباً کہا؛ "سر! 20 ہزار کھانے کے بجٹ میں تقریباً 200 افراد نے چکن کڑاہی، کچن بریانی، کھیر اور کولڈ ڈرنکس کا مزا لیا ہے۔ 200 روپے پر ہیڈ۔ سر! کھانا جناب نے بھی خوب سیر ہو کر کھایا ہے۔" میں نے مزید کہا؛ "میں وزیر بلدیات پنجاب کا 5 سال سٹاف افسر رہا ہوں، پورے پنجاب سے کوئی افسر یا ماتحت کہہ دے کہ میں کسی سے دھیلے کا روادار رہا ہوں تو میرا سر اور آپ کے جوتے۔" ڈاکٹر عصمت خاموش رہی لیکن صفدر نے گواہی دی کہ یہ شخص ایسا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسموگ الرٹ کے بعد تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں قبل از وقت ہونے کا امکان
معاملات کی مزید پیچیدگیاں
میں نے اُن سے کہا؛ "یہ پراجیکٹ میرا تخلیل کردہ ہے۔ میں خود کو اس سے الگ کر رہا ہوں۔" ڈاکٹر عصمت کا رنگ فق ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: الجزیرہ کی رپورٹ نے پہلگام واقعہ پر مودی حکومت کا گھناونا ایجنڈا بے نقاب کردیا
ملاقات کا وقت
آمنا سامنا؛ ڈاکٹر عصمت واپس لاہور آئی تو کہنے لگی؛ "آپ تو ڈی جی کے سامنے بالکل نہ جانا، وہ آپ سے سخت ناراض ہے۔" میں نے کہا؛ "میڈم سچائی آپ کے قریب بدتمیزی ہے تو آپ کی سوچ کا بھی اللہ حافظ ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا؟
ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات
ایک دن دل کڑا کرکے ڈی جی سے ملا اور کہا؛ "سر! اگر آپ کو میری شکل پسند نہیں تو مجھے 2 ماہ کی چھٹی دے دیں"۔ وہ بولے؛ "مجھے یہ بتاؤ وہ 70 ہزار روپے کہاں ہیں؟" میں نے جواب دیا؛ "وہ 70 ہزار روپے تو ڈائریکٹر کے پاس ہیں..."
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش ٹیم کو وائٹ واش کئے جانے کے بعد پاکستانی ہیڈ کوچ کا بیان بھی سامنے آگیا
معاملات کی وضاحت
مجھے وہ یہ کہہ رہی تھی کہ "ڈی جی سے مت ملنا، وہ بڑے ناراض ہیں تم سے"۔ جب ڈاکٹر عصمت کو بلایا گیا تو ان کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ میں نے کہا؛ "میڈم! پیسے خود رکھ کر نام میرا لگا دیا۔" ڈی جی بولا؛ "خاموش رہو۔ مجھے بات کرنے دو۔"
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








