ساری بیورو کریسی اور ایگزیکٹو مل کر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں: جسٹس محسن اختر کیانی
اسلام آباد ہائیکورٹ میں برہمی کا اظہار
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساری بیوروکریسی اور ایگزیکٹیو مل کر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرک میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے دہشت گرد کی شناخت ہو گئی
سابق آڈیٹر جنرل کی پینشن کا کیس
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق آڈیٹر جنرل پاکستان بلند اختر رانا کو عدالتی حکم کے باوجود پینشن کی عدم ادائیگی پر سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہونے کا بہانہ بنا کر وقت مانگنے پر برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ ہنس کر کہنے لگا”حکم کریں“
جسٹس محسن اختر کی ہدایت
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہے تو ہمارا حکم معطل کروالیں ورنہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں۔ اس ماہ کے آخر میں درخواست گزار کی ماہانہ پینشن کی ادائیگی یقینی بنائیں ورنہ معذرت کے ساتھ توہین عدالت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر اتفاق ہوگیا: ٹرمپ
سزا یافتہ افسران کی مثال
جسٹس محسن اختر نے مزید کہا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو اور آڈیٹر جنرل کے اکاؤنٹ منجمد ہونگے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر جن پولیس افسران نے تشدد کیا تھا، ان کو سزا ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایئر فورس نے مگ 21 طیاروں کو ہمیشہ کیلئے گراؤنڈ کر دیا
عدالت کے اعتماد میں کمی
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ساری بیوروکریسی اور ایگزیکٹیو مل کر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ جس نے سابق چیف جسٹس کے ساتھ زیادتی کی اس کو کیوں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
عدالت کی ہدایات اور آئندہ کی سماعت
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فنانس منسٹری کو درخواست گزار کی پینشن پر کوئی اعتراض نہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ سابق آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا کو ماہانہ پینشن اس ماہ کے آخر میں ادا کرکے جنوری میں بتائیں کہ کتنے پیسے باقی بنتے ہیں اور کب دیں گے؟ کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔








