راولپنڈی: ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی
احتجاج و مقدمہ
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ عدالت نے دو ملزمان ثناء بی بی اور جبران خان کی عبوری ضمانت میں 18 دسمبر تک توسیع کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت
عدالتی کارروائی
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اکرام الحق چوہدری نے تھانہ نصیر آباد میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کو تین روز میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ صارفین جن پر انسٹاگرام نے بڑی پابندی عائد کر دی
مبینہ ٹک ٹاکر کی غیر موجودگی
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مبینہ طور پر بال کاٹے جانے کا شکار ٹک ٹاکر غائب ہے، فون بند ہے اور گھر میں کوئی موجود نہیں، جس کے باعث تفتیش رک گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: یاسر شامی کے جوتے چرانے والا چور پنجاب پولیس نے 6 دن کی محنت کے بعد پکڑلیا، جوتے برآمد، ایس ایچ او خرم اس بار چھا گیا
تفتیشی افسر کا بیان
تفتیشی افسر کے مطابق ٹک ٹاکر ایمان فاطمہ نے تھانے آنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ مدعیہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پانی کے گڑھے میں ڈوب کر 2 کمسن بچے جاں بحق
ملزمان کا مؤقف
دوسری جانب ملزمہ ثناء بی بی نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ ان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، نہ وہ کبھی ٹک ٹاکر سے ملی ہیں اور نہ ہی کسی ملزم سے۔
پولیس کی مشکلات
ٹک ٹاکر کے بال کاٹنے کے مقدمے میں تفتیش بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور پولیس مدعی بن کر خود پھنس گئی ہے۔ ایک اور ملزم نظار خان ارمان بھی ضمانت منظور کرا کے غائب ہو گیا ہے。








