اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کا گینگ بنا کر اغوا برائے تاوان کی واردات کرنے کا انکشاف، انکوائری کے بعد مقدمہ درج
وفاقی پولیس کے اہلکاروں کا گینگ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی پولیس کے 2 اہلکاروں کا گینگ بنا کر اغوا برائے تاوان کی واردات کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ملزمان نے سونے کے تاجر کو اٹھایا، پرائیویٹ ٹارچرسیل میں رکھ کر تشدد کیا اور 2 کروڑ روپے لیے۔
یہ بھی پڑھیں: چاروں طرف دہشت تھی، ہر کوئی تنہائی کا شکار اور ہر قسم کے جبر کا سامنا کر رہا تھا، کوئی پرسان حال نہ تھا، سب ان سختیوں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
تشدد اور اغوا کی تفصیلات
ذرائع نے کہا کہ بدترین تشدد، پیسے لینے، سادہ کاغذوں پر انگوٹھے لگوانے اور کسی کو نا بتانے کی قسمیں دے کر تاجر کو چھوڑا گیا۔ ایس پی صدر علی کاظم نے انکوائری کرکے دونوں اے ایس آئیز کو قصور وار قرار دے دیا، جس کے بعد دونوں اے ایس آئیز اور ساتھیوں سمیت ملزمان پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں گندم کے پیداواری مقابلے 26-2025 کا اعلان، جیتنے والے کاشتکاروں کے لئے انعامات مقرر
سونے کے تاجر کا بیان
سوات سے تعلق رکھنے والے تاجر راولپنڈی میں سونا بیچ کر واپس جارہے تھے۔ تاجر نے کہا کہ پولیس کے 2 اے ایس آئیز نے ساتھیوں سمیت روکا اور زبردستی نجی ٹارچر سیل لے گئے، تلاشی کے بہانے گاڑی میں پڑے 4 کروڑ روپے اٹھا لیے۔ پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایک شخص تھا جس نے اپنا تعارف ایف آئی اے کے افسر کے طور پر کروایا۔
مقدمہ اور انکوائری
تاجر نے کہا کہ منت سماجت پر ان لوگوں نے 2 کروڑ اپنے پاس رکھ لیے اور 2 کروڑ ہمیں واپس کر دیے۔ متاثرہ تاجروں کی درخواست پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے انکوائری کا حکم دیا، اور ایس پی صدر علی کاظم نے انکوائری میں ملزمان کو قصور وار قرار دے کر مقدمہ درج کرلیا۔








