سرکاری افسروں کے اثاثے پبلک کرنا آئی ایم ایف کی کوئی اضافی شرط نہیں،عملی اقدام ہے،محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سرکاری افسروں کے اثاثے پبلک کرنا آئی ایم ایف کی کوئی اضافی شرط نہیں بلکہ یہ ایک عملی اقدام ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ معاشی پالیسیوں میں روز تبدیلی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر 19 ورلڈکپ کے لیے پاکستان ٹیم کا اعلان
آل پاکستان چیمبرزکانفرنس سے خطاب
آل پاکستان چیمبرزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہر جانب بات ہو رہی ہے کہ آئی ایم ایف نے مزید پابندیاں لگائی ہیں۔ انہوں نے اسٹرکچرل ریفارمز پر بات کرنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنوری تک این ایف سی کمیٹی کو بلا کر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کے اضافی بوجھ کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ معیشت کے چلنے سے ملک کو بھی ترقی ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈکپ سکواڈ میں شامل نہ کیا گیا تو یہ یقیناً مایوس کن ہوگا، تاہم یہ اپنے کیریئر کا اختتام نہیں سمجھتا، حارث روف
پرائیویٹ سیکٹر کی اہمیت
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ نوکریاں پیدا کرنا حکومت کا کام نہیں، بلکہ یہ ذمہ داری پرائیویٹ سیکٹر کی ہے۔ اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے سازگار ماحول حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ملک کی قیادت کرنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے امن، سلامتی اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہیں : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا خطاب
ڈیجیٹل معیشت اور کرپٹو ایکسچینجز
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس کی بدولت کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئی ہے۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کے اعمال سے شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی محنت کی بدولت بدعنوانی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
نوجوانوں کا کردار
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح ابھی قابو میں ہے اور ہم نے جو کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس دینے کا معاہدہ کیا ہے اس سے مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھائی کروڑ سے زائد پاکستانی کرپٹو کے کاروبار میں شامل ہیں، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک چلے گا، معیشت چلے گی اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔








