لاہور ہائیکورٹ نے طلاق دینے کے 3 دن بعد ازدواجی تعلقات قائم کرنے پر شوہر کے خلاف درج زیادتی کا مقدمہ خارج کر دیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے طلاق دینے کے تین دن بعد ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے معاملے پر شوہر کے خلاف درج زیادتی کا مقدمہ خارج کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ رخ کی بدتمیزیوں پر ان کی اہلیہ کا رویہ کیسا ہوتا ہے؟ سپر سٹار نے خود بتادیا
عدالت کا موقف
عدالت نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت طلاق 90 دن مکمل ہونے سے قبل قانونی طور پر مؤثر نہیں ہوتی اس لیے اس مدت کے دوران ازدواجی تعلقات کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جنہوں نے سنی اتحاد کو جوائن کیا ان کی واپسی کیسے ہو سکتی ہے اصل سوال یہ ہے،جسٹس امین الدین خان
فیصلے کی تفصیلات
دنیا ٹی وی کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہری جمیل احمد کی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طلاق کے بعد 90 روز کے اندر شوہر کو طلاق منسوخ کرنے (رجوع) کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس مدت میں نکاح برقرار تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی ویٹی کن میں پوپ لیو کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت
تنازع کی وضاحت
فریقین کی شادی 22 اپریل 2024 کو ہوئی، بعد ازاں خاتون کو معلوم ہوا کہ شوہر پہلے سے شادی شدہ ہے جس پر تنازع پیدا ہوا۔ شوہر نے 14 اکتوبر 2024 کو طلاق دی جبکہ خاتون کے مطابق 17 اکتوبر کو سابق شوہر نے گن پوائنٹ پر زبردستی زیادتی کی۔ خاتون نے رحیم یار خان میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی جو تحریک شروع کرنے جارہی ہے ان کو اس سے کچھ نہیں ملے گا: رانا ثنا
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت 90 دن سے قبل طلاق مؤثر نہیں ہوتی اور اس نے مقررہ مدت کے اندر چیئرمین یونین کونسل کے روبرو رجوع بھی کر لیا تھا، لہٰذا قانونی طور پر خاتون اس کی بیوی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ترجیح کیا ہونی چاہیے۔؟ بیرسٹر گوہر نے علی امین گنڈا پور سے ’’گزارش‘‘ کر دی
عدالت کی تحقیقات
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ان حقائق سے خاتون نے بھی انکار نہیں کیا، اس لیے قانون کی نظر میں فریقین کی شادی برقرار رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا: ورلڈ بینک
اسلامی قانون کی وضاحت
جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں واضح کیا کہ اسلامی قانون کے تحت شادی کے خاتمے کے مختلف طریقے ہیں، تاہم مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے مطابق طلاق 90 دن مکمل ہونے سے پہلے قانونی حیثیت اختیار نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: مبینہ جعلی پولیس مقابلہ؛ سی ٹی ڈی افسران کیخلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنیکا حکم
قانون کا تجزیہ
عدالت نے یہ بھی کہا کہ قانون گناہ اور جرم میں فرق کرتا ہے۔ موجودہ کیس میں اگرچہ درخواست گزار کے طرزِ عمل کو غیر اخلاقی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اس بنیاد پر زیادتی کی دفعات لاگو نہیں ہوتیں۔
نتیجہ
لاہور ہائی کورٹ نے نتیجتاً درخواست گزار کے خلاف درج زیادتی کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا اور اس معاملے میں ایک نیا قانونی نکتہ طے کر دیا۔








