معاف کرنا سیکھو، درویشی کا راز اسی میں ہے، رجن پور انڈیا میں ہے؟ جوائن کر کے صبح مجھے رپورٹ کریں
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 378
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ایک کروڑ ریال کا نیا کرنسی نوٹ جاری کر دیا
مشکل کا سامنا
میرے پاس اس مشکل سے نکلنے کے لئے اب 7 دن تھے۔ مجھے اے ڈی ایل جی راجن پور کا فون آیا؛"سر! مہربانی کریں میرے پاس جوائنگ کے لئے مت آئیں یہ میرے لئے بڑی شرمندگی ہو گی کہ آپ جیسے سینئر افسر کو میرے ماتحت کام کرنا پڑے۔" یہ اُس کا بڑا پن تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جب پاکستان اور سعودیہ عرب دونوں اکٹھے ہو گئے تو یہ ایک ورلڈ سپرپاور تصور ہوں گے، رانا ثنا اللہ
دوست کی مدد
اس موقع پر میرا دوست قاری ضیاء میرے کام آیا۔ اس نے مجھے ایڈیشنل سیکرٹری (سی ڈی) جاوید اقبال سے ملنے کا کہا جن سے اُس کی اچھی یاد اللہ تھی۔ اُنہوں نے اِس صورت حال میں مجھے حوصلہ دیا اور اپنے تحت میری بطور سیکشن افسر تبادلہ کی کوشش شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں ہمیں بہترین کامیابی ملی، ایران کو ہر صورت امن قائم کرنا ہو گا: ڈونلڈ ٹرمپ
وزیر موصوف سے ملاقات
معاف کرنا سیکھو درویشی کا راز اسی میں ہے؛ خیر میں نے سیکرٹری بلدیات خضر حیات گوندل صاحب سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ (یہ اعلیٰ و وضع دار شخص بعد میں چیف سیکرٹری پنجاب بھی رہے) ان سے ملا تو کہنے لگے؛ "راجن پور انڈیا میں ہے۔ جائیں اور جا کر جوائن کر کے صبح مجھے رپورٹ کریں۔"
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان شدید گرمی کی لپیٹ میں، درجہ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا
مایوسی کا عالم
میں مایوسی میں اُن کے دفتر سے نکلا تو آنکھیں پرنم اور دل انتہائی مایوس تھا۔ کل تک محکمہ کا تیسرے تگڑا افسر اور آج بے بسی کا یہ عالم تھا۔ سبحان اللہ۔ دل میں خیال آیا نوکری چھوڑ دوں۔ مایوسی اور گہری سوچ میں ڈوبا سیکرٹریٹ کے گیٹ پر پہنچا تو بار بار سیکرٹری آفس سے فون آ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان، ایک پاکستانی بھی شامل
فوائد کی خبر
ڈرتے ڈرتے فون سنا تو دوسری طرف سیکرٹری کا پی اے عباس تھا۔ کہنے لگا؛ "سر! کب سے فون کر رہا ہوں۔ سیکرٹری صاحب یاد کر رہے ہیں۔ فوراً پہنچیں۔" نئے وسوسے لئے اُن کے دفتر آیا اور نائب قاصد قدیر سے پوچھا؛ "صاحب۔" کہنے لگا؛ "سر! صاحب اندر اکیلے ہی ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: شادی کے سوال پر بلاول بھٹو کا دلچسپ جواب
چیف سیکرٹری آفس کی طرف
میں نے کہا؛ "جب تک میں اندر رہوں کسی کو آنے نہ دینا۔" اندر گیا تو سیکرٹری صاحب مسکرا کر کرسی سے اٹھ کر مجھے ملے۔ میں حیران رہ گیا کہ اللہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ ایسی تبدیلی۔ کہنے لگے؛ "تمھاری سنیارٹی کا کیا مسئلہ ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: کراچی آج سے 3 دن تک ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہے گا، الرٹ جاری
درخواست کا عمل
انہیں ساری بات بتائی اور راجن پور والا قصہ بھی سنا دیا۔ کہنے لگے؛ "یہ سب باتیں آپ کتنی دیر میں لکھ کر دے سکتے ہو؟" میں نے جواب دیا؛ "سر! 10 منٹ میں۔" بولے لکھ کر لاؤ اور ساتھ ہی اپنے پی ایس کو فون پر کہا؛ "میں چیف سیکرٹری آفس جا رہا ہوں۔ شہزاد تمھیں جیسے ہی درخواست دے مجھ وہیں آ کر دے دینا۔"
یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں کرپشن کی مد میں کتنے سو ارب روپے برآمد کیے گئے؟ قومی احتساب بیورو کے تہلکہ خیز انکشافات
تبدیل ہوتے حالات
میں ان کا شکریہ ادا کرکے چلا گیا۔ 10 منٹ بعد درخواست ان کے پی ایس انور بھٹی کے حوالے کر دی۔ اللہ نے جب سبب بنانا ہوتا تو معاملات سیدھے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ شام کو مجھے خبر ملی کہ اسد مانی ڈی جی لوکل گورنمنٹ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا اور میری پوسٹنگ بطور سیکشن افسر (فورن پراجیکٹ) کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آکاش پٹیل: ٹرمپ کے “وفادار” بھارتی نژاد وکیل جن کی ایف بی آئی کے سربراہ کے طور پر نامزدگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں
شکرگزاری
میں نے اطلاع ملتے ہی اللہ کا شکر ادا کیا اور اسد مانی کو ٹیسٹ میسج بھیجا؛ "درویشوں سے پنگا نہیں لیا کرتے۔ معاف کرنا سیکھو درویشی کا راز اسی میں ہے۔" زندگی میں دوبارہ اس شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ مشکلات اور تکلیف کے بعد ہی راحت ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی کی قرارداد جمع
ڈاکٹر عصمت کا جال
ڈاکٹر عصمت نے جو جال میرے لئے بنا تھا اس میں خود پھنسی اور واپس وہیں پہنچی جہاں سے آئی تھی۔ خالی ہاتھ۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ، 13 سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








