معاف کرنا سیکھو، درویشی کا راز اسی میں ہے، رجن پور انڈیا میں ہے؟ جوائن کر کے صبح مجھے رپورٹ کریں
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 378
یہ بھی پڑھیں: فلم ساز جمشید محمود جامی کو ہتک عزت کے جرم میں دو سال قید کی سزا
مشکل کا سامنا
میرے پاس اس مشکل سے نکلنے کے لئے اب 7 دن تھے۔ مجھے اے ڈی ایل جی راجن پور کا فون آیا؛"سر! مہربانی کریں میرے پاس جوائنگ کے لئے مت آئیں یہ میرے لئے بڑی شرمندگی ہو گی کہ آپ جیسے سینئر افسر کو میرے ماتحت کام کرنا پڑے۔" یہ اُس کا بڑا پن تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ثنا سیّد اور عماد شمسی کے گھر ننھی پری کی آمد
دوست کی مدد
اس موقع پر میرا دوست قاری ضیاء میرے کام آیا۔ اس نے مجھے ایڈیشنل سیکرٹری (سی ڈی) جاوید اقبال سے ملنے کا کہا جن سے اُس کی اچھی یاد اللہ تھی۔ اُنہوں نے اِس صورت حال میں مجھے حوصلہ دیا اور اپنے تحت میری بطور سیکشن افسر تبادلہ کی کوشش شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ساتھی کو دھوکے سے ’سچ بولنے والا‘ انجیکشن لگانے پر چینی شخص بڑی مصیبت میں پڑ گیا
وزیر موصوف سے ملاقات
معاف کرنا سیکھو درویشی کا راز اسی میں ہے؛ خیر میں نے سیکرٹری بلدیات خضر حیات گوندل صاحب سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ (یہ اعلیٰ و وضع دار شخص بعد میں چیف سیکرٹری پنجاب بھی رہے) ان سے ملا تو کہنے لگے؛ "راجن پور انڈیا میں ہے۔ جائیں اور جا کر جوائن کر کے صبح مجھے رپورٹ کریں۔"
یہ بھی پڑھیں: کرتارپور راہداری غیرمعینہ مدت کیلئے بند
مایوسی کا عالم
میں مایوسی میں اُن کے دفتر سے نکلا تو آنکھیں پرنم اور دل انتہائی مایوس تھا۔ کل تک محکمہ کا تیسرے تگڑا افسر اور آج بے بسی کا یہ عالم تھا۔ سبحان اللہ۔ دل میں خیال آیا نوکری چھوڑ دوں۔ مایوسی اور گہری سوچ میں ڈوبا سیکرٹریٹ کے گیٹ پر پہنچا تو بار بار سیکرٹری آفس سے فون آ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ریلی میں کرنل صوفیہ قریشی کے اہلخانہ کو بلوا کر مودی پر گل پاشی کروائی گئی، بی جے پی حکومت کو تنقید کا سامنا
فوائد کی خبر
ڈرتے ڈرتے فون سنا تو دوسری طرف سیکرٹری کا پی اے عباس تھا۔ کہنے لگا؛ "سر! کب سے فون کر رہا ہوں۔ سیکرٹری صاحب یاد کر رہے ہیں۔ فوراً پہنچیں۔" نئے وسوسے لئے اُن کے دفتر آیا اور نائب قاصد قدیر سے پوچھا؛ "صاحب۔" کہنے لگا؛ "سر! صاحب اندر اکیلے ہی ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کہاں ہوا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
چیف سیکرٹری آفس کی طرف
میں نے کہا؛ "جب تک میں اندر رہوں کسی کو آنے نہ دینا۔" اندر گیا تو سیکرٹری صاحب مسکرا کر کرسی سے اٹھ کر مجھے ملے۔ میں حیران رہ گیا کہ اللہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ ایسی تبدیلی۔ کہنے لگے؛ "تمھاری سنیارٹی کا کیا مسئلہ ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا قطر پر حملہ، افغان حکومت کا سخت رد عمل سامنے آگیا
درخواست کا عمل
انہیں ساری بات بتائی اور راجن پور والا قصہ بھی سنا دیا۔ کہنے لگے؛ "یہ سب باتیں آپ کتنی دیر میں لکھ کر دے سکتے ہو؟" میں نے جواب دیا؛ "سر! 10 منٹ میں۔" بولے لکھ کر لاؤ اور ساتھ ہی اپنے پی ایس کو فون پر کہا؛ "میں چیف سیکرٹری آفس جا رہا ہوں۔ شہزاد تمھیں جیسے ہی درخواست دے مجھ وہیں آ کر دے دینا۔"
یہ بھی پڑھیں: نجکاری کیلئے پی آئی اے،سٹیٹ لائف انشورنس سمیت 10 اداروں کی فہرست فائنل
تبدیل ہوتے حالات
میں ان کا شکریہ ادا کرکے چلا گیا۔ 10 منٹ بعد درخواست ان کے پی ایس انور بھٹی کے حوالے کر دی۔ اللہ نے جب سبب بنانا ہوتا تو معاملات سیدھے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ شام کو مجھے خبر ملی کہ اسد مانی ڈی جی لوکل گورنمنٹ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا اور میری پوسٹنگ بطور سیکشن افسر (فورن پراجیکٹ) کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ٹی20 سکوڈ کی تشکیل آخری مرحلے میں داخل، متعدد تبدیلیوں کا امکان
شکرگزاری
میں نے اطلاع ملتے ہی اللہ کا شکر ادا کیا اور اسد مانی کو ٹیسٹ میسج بھیجا؛ "درویشوں سے پنگا نہیں لیا کرتے۔ معاف کرنا سیکھو درویشی کا راز اسی میں ہے۔" زندگی میں دوبارہ اس شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ مشکلات اور تکلیف کے بعد ہی راحت ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا ایران پر حملے کا منصوبہ بےنقاب
ڈاکٹر عصمت کا جال
ڈاکٹر عصمت نے جو جال میرے لئے بنا تھا اس میں خود پھنسی اور واپس وہیں پہنچی جہاں سے آئی تھی۔ خالی ہاتھ۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کا سب سے بڑا پٹرول پمپ، ایک وقت میں 120 گاڑیاں فیول بھرواسکتی ہیں
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








