پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثے بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے: بلال بن ثاقب

پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اور کرپٹو بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثے بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ تقریباً 3 سے 4 کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لیجنڈ ریسلر ہاگن دل کا دورہ پڑنے کے باعث چل بسے

پاکستان کے لئے عالمی معیار کا راستہ

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ایکس چینجز کے لئے منظم، شفاف اور عالمی معیار کا راستہ کھول دیا گیا ہے، جو نئی سوچ کی عکاسی اور ادارہ جاتی تبدیلی کا مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ چاہتے ہیں 26ویں ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد یہ کیس سنیں؟ جسٹس امین الدین کا وکیل حامد خان سے مکالمہ

قانونی فریم ورک کی اہمیت

انہوں نے مزید کہا کہ بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو این او سی کا اجرا نئی سوچ کا عملی قدم ہے، جس سے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی ممکن ہوگی۔ دنیا کے بڑے مالی مراکز بھی اسی طرح کے مرحلہ وار ماڈلز اپناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا معطل شدہ ڈومیسٹک کرکٹ بحال کرنے کا فیصلہ

پاکستان کا عالمی مالیاتی نظام میں کردار

بلال بن ثاقب نے واضح کیا کہ 3 سے 4 کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثے استعمال کر رہے ہیں، اور پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے اپنانے میں عالمی سطح پر پہلے تین ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بانڈ مارکیٹ 100 ٹریلین ڈالر کی سطح پر ڈیجیٹل ریلز کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: Brave and Devoted Political Activists

مستقبل کی تیاری

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان اگلے 10 سال میں ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی خودمختاری کو مستحکم کر چکا ہوگا۔ پاکستان کا مستقبل درحقیقت ان کی اپنی تخلیق ہونا چاہئے۔ ہماری نوجوان نسل عالمی معیار کی ہے اور انہیں انویٹوٹن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں صحیح پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایسا ماحول تخلیق کرنا ہوگا جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں،بیرسٹر امجد ملک

ٹیلنٹ کو مواقع مہیا کرنا

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کے پاس جو مواقع ہیں وہ بہت کم ممالک کے پاس ہیں، اور وہ کرپٹو کو ریگولیٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹیلنٹ کا فائدہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب اس کے پاس ایک قانونی ڈھانچہ یا فریم ورک ہو۔ ہمیں ٹیلنٹ کو ترقی دینے کے لئے راستہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

2050 تک کی تیاری

انہوں نے کہا کہ یہ فریم ورک صرف ٹریڈنگ کے لئے نہیں بلکہ ہم پاکستان کو 2050 کی انڈسٹریز کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان صرف صارفین نہ بنیں بلکہ عالمی سطح پر ماہرین بنیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...