پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثے بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے: بلال بن ثاقب
پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اور کرپٹو بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثے بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ تقریباً 3 سے 4 کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی کی ملاقات، پاک بھارت جنگ بندی پر بات چیت
پاکستان کے لئے عالمی معیار کا راستہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ایکس چینجز کے لئے منظم، شفاف اور عالمی معیار کا راستہ کھول دیا گیا ہے، جو نئی سوچ کی عکاسی اور ادارہ جاتی تبدیلی کا مظہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں لاپتہ ڈی ایس پی رفیق مینگل بخیریت واپس آ گئے
قانونی فریم ورک کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو این او سی کا اجرا نئی سوچ کا عملی قدم ہے، جس سے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی ممکن ہوگی۔ دنیا کے بڑے مالی مراکز بھی اسی طرح کے مرحلہ وار ماڈلز اپناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہو بورڈ نے امتحانات کے طریقہ کار میں تبدیلی کر دی
پاکستان کا عالمی مالیاتی نظام میں کردار
بلال بن ثاقب نے واضح کیا کہ 3 سے 4 کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثے استعمال کر رہے ہیں، اور پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے اپنانے میں عالمی سطح پر پہلے تین ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بانڈ مارکیٹ 100 ٹریلین ڈالر کی سطح پر ڈیجیٹل ریلز کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم ترین اجلاس طلب کرلیا
مستقبل کی تیاری
معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان اگلے 10 سال میں ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی خودمختاری کو مستحکم کر چکا ہوگا۔ پاکستان کا مستقبل درحقیقت ان کی اپنی تخلیق ہونا چاہئے۔ ہماری نوجوان نسل عالمی معیار کی ہے اور انہیں انویٹوٹن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں صحیح پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا پاک فضائیہ کے آپریشنل بیس کا دورہ، کثیرالملکی مشق انڈس شیلڈ کا مشاہدہ
ٹیلنٹ کو مواقع مہیا کرنا
بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کے پاس جو مواقع ہیں وہ بہت کم ممالک کے پاس ہیں، اور وہ کرپٹو کو ریگولیٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹیلنٹ کا فائدہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب اس کے پاس ایک قانونی ڈھانچہ یا فریم ورک ہو۔ ہمیں ٹیلنٹ کو ترقی دینے کے لئے راستہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
2050 تک کی تیاری
انہوں نے کہا کہ یہ فریم ورک صرف ٹریڈنگ کے لئے نہیں بلکہ ہم پاکستان کو 2050 کی انڈسٹریز کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان صرف صارفین نہ بنیں بلکہ عالمی سطح پر ماہرین بنیں۔








