لاہور، ضلعی انتظامیہ نے پتنگ اور ڈور بنانے والوں کی رجسٹریشن فیس مقرر کر دی
بنت کی تیاری کے لیے رجسٹریشن فیس مقرر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ نے پتنگ اور ڈور بنانے والوں کی رجسٹریشن فیس مقرر کر دی ہے۔
بسنت کی مشروط اجازت
پنجاب حکومت کی جانب سے 6 سے 8 فروری تک بسنت منانے کی مشروط اجازت کے بعد انتظامیہ نے پتنگ سازی، ڈور کی تیاری اور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کے لیے واضح قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔
رجسٹریشن کی ضروریات
موقع پر پتنگ اور ڈور بنانے والوں کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ ڈور اور پتنگ مینوفیکچررز کی رجسٹریشن فیس ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن فیس 5 ہزار روپے ہوگی۔
فارمز کی جمع آوری
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پتنگ سازوں اور ڈور مینوفیکچررز کو رجسٹریشن کے لیے فارم اے جمع کروانا ہوگا، جبکہ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز فارم سی کے ذریعے رجسٹریشن کرائیں گی۔
سخت پابندیاں
پنجاب حکومت نے بسنت 6 سے 8 فروری تک منانے کی مشروط اجازت دی ہے، جس کے تحت پتنگ اور ڈور کے سائز اور معیار سے متعلق سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ضابطوں کے مطابق پتنگ کا سائز چالیس انچ سے زیادہ نہیں ہوگا جبکہ گڈے کی چوڑائی تیس انچ سے زائد نہیں ہو سکے گی۔
ڈور کی تیاری کے ہدایات
ڈور کے حوالے سے ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ڈور صرف کاٹن سے تیار کردہ دھاگے سے بنائی جائے گی اور اس میں نو سے زائد تاریں استعمال نہیں کی جا سکیں گی۔ مانجے کی تیاری میں گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشے کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
شہریوں کی حفاظت
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بسنت کے دوران شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنانا ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔








