خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 63 میگاواٹ کے 3 پن بجلی منصوبے مکمل کر لیے
خیبر پختونخوا حکومت کے پن بجلی منصوبے
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 63 میگاواٹ کے 3 پن بجلی منصوبے مکمل کر لیے، ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے کو سالانہ 4.4ارب روپے کی آمدن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: 8 ماہ قبل ہمارا پاسپورٹ 140 ویں نمبر پر تھا اب 98 پر آگیا، خواجہ آصف
سوات کوریڈور پر ٹرانسمیشن لائن
سوات کوریڈور پر 40 کلو میٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے جو آئندہ سال مکمل کر لیا جائے گا جن کی تکمیل سے صوبے کے صنعتی شعبے کو سستی بجلی فروخت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹکٹ کانپور بار ایسوسی ایشن نے خریدے، بھارتی قلیوں نے گھیرے میں لے لیا، سوچا ”شانِ پنجاب ریل گاڑی“ ہم پنجابیوں کی شان کے مطابق ہو گی۔
اجلاس میں سیکرٹری توانائی کی صدارت
ان خیالات کا اظہار سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد نے پیڈو ہاؤس میں پن بجلی کے جاری 7 اہم منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیا دیہات تحریک
پن بجلی منصوبوں کی کامیابی
اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پیڈو حبیب اللہ شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال 63میگاواٹ کے تین اہم پن بجلی منصوبے 40.8میگاواٹ کوٹو دیر، 11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور 10.2 میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق انتخابی عذر داری پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
مزید پن بجلی منصوبوں کی پیشرفت
اسی طرح 300 میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ، 157 میگاواٹ مدین سوات، 88 میگاواٹ گبرال کالام، 84 میگاواٹ مٹلتان سوات، 69 میگاواٹ لاوی چترال اور 6.9 میگاواٹ مجاہدین پاور پراجیکٹ تورغر پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلی سالگرہ سے 2 دن پہلے بچے کی باتھ ڈب میں ڈوب کر موت، والدین کو سزا سنا دی گئی
سوات کے منصوبوں پر تشویش
سیکرٹری توانائی نے ضلع سوات میں توانائی کے جاری 3فلیگ شپ منصوبوں پر کام کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ان منصوبوں سے 330میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ 2 سالوں میں شروع ہونے کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈز سے بچاؤ کے لیے آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے: ڈاکٹر حاجی محمد حنیف
ڈیڈلائن کی پابندی کی ہدایت
انہوں نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو خبردار کیا کہ منصوبے مقررہ ڈیڈلائن کے اندر مکمل کریں بصورت دیگر اب کسی بھی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تعداد 186 تک پہنچ گئی
پیدو افسران کی کارکردگی
انہوں نے پیڈو افسران کو تمام امور ٹیم ورک کے تحت نمٹانے پر زور دیا کیونکہ محکمہ توانائی موجودہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت گین چارٹ کے ذریعے تمام جاری منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر فزیکل پراگریس مانیٹر کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش کے ورلڈ کپ میچز بھارت سے منتقل کرانے کے مطالبے پر بھارتی بورڈ کا ردعمل سامنے آگیا
مٹلتان سے مدین تک ٹرانسمیشن لائن منصوبہ
اس موقع پر سیکرٹری توانائی نے مٹلتان سے مدین تک 40 کلو میٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو آنے والے دنوں میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے منصوبے کو آئندہ سال ٹائم فریم میں ہر صورت مکمل کرنے پر زور دیا اور صوبے کے سب سے بڑے منصوبے 300میگاواٹ بالاکوٹ پر بھی نوتعینات متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کو کام مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
پیڈو کے انتظامی امور کی شفافیت
اجلاس میں سیکرٹری توانائی نے پیڈوکے انتظامی امور کو مزید شفاف بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔








