پاکستان کے سابق وزیر محمد صدیق کانجو اور عبدالرحمن کانجو کی خدمات، جدوجہد اور شخصیت پر اوورسیز پاکستانیوں کا خراج تحسین
اوورسیز پاکستانیوں کی عبدالرحمن کانجو سے ملاقات
لندن ( نمائندہ خصوصی ) اوورسیز پاکستانیوں نے گزشتہ روز عبدالرحمن کانجو سے رابطہ کیا اور اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر مملکت نے تمام تر مصروفیات چھوڑ کر خصوصی دلچسپی لی اور اپنے سٹاف کو احکامات صادر کئے کہ وہ اوورسیز کے علاقے میں بجلی میٹرز کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی لیں اور انھیں ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ اوورسیز پاکستانیوں نے وفاقی وزیر مملکت کے اس دوستانہ رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اصول، قومی مفاد اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 10 سال کے جوانوں کی شادی کرواؤں گا، مولانا فضل الرحمان
صدیق کانجو کی سیاسی خدمات
سابق وفاقی وزیر صدیق کانجو کا شمار بھی انہی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کی سیاسی خدمات اور نظریاتی وابستگی نے نہ صرف ان کے دور میں اثرات مرتب کیے، بلکہ ان کے خانوادے میں بھی قومی خدمت کی روایت کو آگے بڑھایا۔ ان کے بیٹے عبدالرحمن کانجو آج اسی سیاسی ورثے کو جدید تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
پاکستان بزنس فورم کے عہدیداران نے کہا کہ صدیق کانجو پاکستان کے ان سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے نظریاتی سیاست کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔ وہ ایک مدبر، معاملہ فہم اور جرات مند رہنما تھے جنہوں نے قومی سطح پر مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔ بطور وفاقی وزیر، انہوں نے حکومتی امور میں سنجیدگی، شفافیت اور قومی مفاد کو مقدم رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: شجاعت حسین سے جرمن سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تجارت کیلئے عملی اقدامات پر زور
عبدالرحمن کانجو: جدید سوچ کے حامل نوجوان رہنما
عبدالرحمن کانجو اپنے والد کے سیاسی ورثے کے امین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نئی سوچ اور جدید سیاسی فہم کے حامل رہنما ہیں۔ وہ نوجوان نسل کی نمائندگی کرتے ہوئے ملکی سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے بابراعظم اور محمد رضوان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کردیے
عوامی مسائل اور جدید سیاست
ان کی سیاست میں عوامی مسائل، نوجوانوں کے مواقع، تعلیم، اور قومی خودمختاری جیسے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔ عبدالرحمن کانجو کی شخصیت میں اعتماد، شائستگی اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کا انداز نمایاں ہے۔ وہ روایتی سیاست کے بجائے عوام سے براہِ راست رابطے اور جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں قومی غیرت، جمہوری اقدار اور ترقی پسند سوچ جھلکتی ہے جو انہیں ہم عصر نوجوان سیاست دانوں میں ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی ٹی اے نے عہدے سے ہٹانے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا
کانجو خاندان کا سیاسی ورثہ
صدیق کانجو اور عبدالرحمن کانجو کی سیاسی زندگی میں ایک واضح قدر مشترک ہے، اور وہ ہے قوم سے وفاداری اور عوامی خدمت۔ جہاں صدیق کانجو نے تجربے، اصول اور نظریے کی بنیاد رکھی، وہیں عبدالرحمن کانجو اس ورثے کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کانجو خاندان کی سیاست محض اقتدار کے حصول تک محدود نہیں بلکہ نظریہ، خدمت اور قومی وقار سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیق کانجو کی خدمات آج بھی یاد کی جاتی ہیں اور عبدالرحمن کانجو سے مستقبل میں بھی مثبت اور تعمیری کردار کی توقع کی جاتی ہے۔
پاکستان بزنس فورم کا بیان
پاکستان بزنس فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے ہی رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ماضی کے تجربے اور مستقبل کی بصیرت کو یکجا کر سکیں۔ صدیق کانجو کی سیاسی خدمات ایک روشن باب ہیں، جبکہ عبدالرحمن کانجو اس باب کا تسلسل ہیں۔ اگر یہی خلوص، اصول پسندی اور عوامی وابستگی برقرار رہی تو یہ سیاسی سفر نہ صرف کامیاب ہوگا بلکہ ملکی سیاست کے لیے ایک مثبت مثال بھی ثابت ہوگا۔ اوورسیز پاکستانیوں نے عبدالرحمن کانجو کی خدمات کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے اور درازی عمر کی دعا بھی کی، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور حکومت پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔








