حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی کی زندگی اور تحریک پاکستان کے لیے خدمات، ظفر علی خان فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تقریب سے مقررین کا خطاب
تعریف و توصیف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی کا شمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتا ہے جو تمام عمر تحریک پاکستان اور پھر تعمیر پاکستان لئے سرگرم عمل رہے۔ بلاشبہ، وہ ایک نابغۂ روزگار ہمہ صفت، ہمہ جہ اور عہد آفریں شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ بیک وقت لاجواب خطیب، بے مثال مقرر، ممتاز طبیب، ادیب، مصنف اور اعلیٰ ذوق کے شاعر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہجرت کے حق کی پاسداری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
تحریک پاکستان کے شانہ بشانہ
آپ منجھے ہوئے سماجی و سیاسی کارکن، سنجیدہ صحافی، مدبر اور سب سے بڑھ کر پکے اور سچے مسلمان تھے، جو رسالت مآب ﷺ کی حرمت پر سب کچھ لٹانے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ آپ نے اپنی تمام زندگی اسلام، پاکستان اور طب کے لیے متحرک گزاری۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا سلطانہ صدیقی کے بھائی مظہر الحق صدیقی کے انتقال پر اظہار افسوس
سالانہ تقریب
ان خیالات کا اظہار مقررین نے ظفر علی فاونڈیشن کے زیر اہتمام تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن مولانا ظفر علی خان کے ساتھی ادیب شاعر، صحافی، کالم نگار، مصنف اور مصلح قوم حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی کی 31 ویں برسی پر منعقدہ خصوصی تقریب میں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: درمیانی مشورے سے طے پایا کہ دریا کے نیچے سے سرنگ نکالی جائے، کھدائی کا کام شروع ہوا، اچانک پانی ٹپکنا شروع ہو گیا اور پھر مقدار بڑھتی ہی چلی گئی۔
مقررین کی آراء
تقریب کی صدارت خالد محمود نے کی، جبکہ مہمان خصوصی روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر اور ممتاز تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی اور ڈاکٹر نوید الہی، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی، ڈاکٹر اسلم ڈوگر، سابق ڈی جی پی آر حکیم راحت نسیم، امیر العظیم سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی، ڈاکٹر وقار ملک، امتیاز خان، محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ، ڈاکٹر شفیق جالندھری، حکیم بشیر بھیروی، شاہد بخاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے عارف علوی کو کسی بھی درج مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا
قیادت اور حوصلہ
انہوں نے کہا کہ حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی نے زندگی اس شان سے گزاری کہ اقبال کے شاہینوں کی یاد تازہ کردی۔ حالات و واقعات اور مسائل و مشکلات اُن کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکے۔ علی گڑھ میں اُن کی دوسری صلاحیتیں بھی نکھر کر سامنے آئیں۔ یہ آپ کا دور شباب تھا، جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی برصغیر میں مسلمانون ہند کا علمی گہوارہ ہی نہیں، تحریک آزادی کا مرکز بھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سب جیل پنڈی بھٹیاں کا افتتاح
نظریہ پاکستان کی پاسداری
مرحوم نظریہ پاکستان کے سچے سپاہی تھے۔ انہوں نے گذشتہ نصف صدی کی ہر قومی تحریک میں حصہ لیا مگر کبھی مفادات حاصل نہیں کیے۔ پاکستان سے محبت اُن کا جزو ایمان تھا۔ قومی اخبارات کے فائل گواہ ہیں کہ وہ نظریہ پاکستان کے سچے سپاہی تھے۔ آپ مرکزی مجلس ظفر علی خان کے بانی و صدر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سدرہ کی قبرکشائی کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی، 18 سالہ سدرہ پر شدید تشدد اور گردن کی ہڈیاں ٹوٹی ہونے کا انکشاف
تحریک کے سرپرست
ہم کہہ سکتے ہیں کہ مولانا ظفر علی خان کے بعد وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے مولانا ظفر علی خان کے فکر و نظر کے چراغ کو روشن رکھا۔ اپنی عقیدت، تعلق اور دوستی کی شایان شان اور لائق تقلید مثال قائم کی۔ اُن کی شخصیت پر قائداعظم کے سیاسی افکار و بصیرت، علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے فلسفہ اور ظفر علی خان کے جذبوں کی گہری چھاپ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین عمران خان ہیں، بیرسٹر گوہر کو صرف پیغام رسانی کیلئے تعینات کیا ہے: علیمہ خان
تحريک پاکستان کی حمایت
آپ کی تحریریں اُن کے گہرے سیاسی شعور اور عمیق فکر پر دلالت کرتی ہیں۔ اسلام اور پاکستان سے اُن کی وابستگی عشق کی حدوں کو چھوتی تھی۔ انہوں نے جس جوش و جذبے سے تحریک پاکستان میں کام کیا، اس سے زیادہ اس کی تعمیر و ترقی اور استحکام کے لئے کوشاں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بجلی سستی کرنے کا پلان سامنے آگیا
قادیانیت کے خلاف جدوجہد
مولانا ظفر علی خان کی برسی پر ہر سال نیا مضمون لکھتے۔ اُن کی امتیازی شان یہ تھی کہ وہ کلام مولانا ظفر علی خان کے حافظ تھے۔ انہوں نے بھرپور جدوجہد کے ذریعے قادیانیت کے فتنے کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔
سیاسی خدمات اور اعترافات
حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی دوران تعلیم ہی سیاست میں آ گئے تھے۔ علی گڑھ میں جب آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام ہوا، آپ نے اس کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کی۔ قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آبادکاری، تحریک جمہوریت اور تحریک نظام مصطفیٰ میں کام کیا۔ 1987ء میں حکومت نے اُن کی ملی خدمات پر تحریک پاکستان گولڈ میڈل عطا کیا۔








