ڈاکٹر رؤف امیر نے نامساعد حالات میں بھی وطن کا نام بلند کئے رکھا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبدالقیوم
ڈاکٹر رؤف امیر کی اردو زبان و ادب کی خدمات
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) واہ کینٹ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رؤف امیر نے وسط ایشیائی ریاستوں میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے اہم خدمات سرانجام دیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے افغان طالبان کو دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے میں مدد کی پیشکش کردی
کتاب ’’وسطا ایشیا میں اردو‘‘ کی رونمائی
ڈاکٹر رؤف امیر کی کتاب ’’وسطا ایشیا میں اردو‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب میں انہوں نے کہا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اپنی قومی زبان کو تمام صوبوں میں بلا تفریق لاگو کر کے متعصب رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ ادارہ فروغ قومی زبان جیسے قابل فخر اداروں کی مالی معاونت کی جائے تو مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ لسانی روابط سے بین الممالک ثقافت و نظریات کا فروغ ممکن ہوتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ امر ضروری ہے کہ زبان سیکھنے کے بعد احساسات اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے انسان مترجم سے کہیں بہتر خود اپنے جذبات بیان کر سکتا ہے۔ زبان ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے انسان اپنا نکتہ نظر مؤثر انداز میں دوسرے تک منتقل کر سکتے ہیں۔ تہذیب کی اقدار زبان کی مرہون منت ہوتی ہے۔
وطن کا نام بلند کرنے میں ڈاکٹر رؤف امیر کا کردار
چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبدالقیوم نے مزید کہا کہ ڈاکٹر رؤف امیر نے نامساعد حالات میں بھی وطن کا نام بلند کئے رکھا۔ انہوں نے اردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ روسی قذاقی زبانوں کے غلبے کے دور میں اردو کا تعارف کرانا ایک سنگ میل تھا۔








