ٹیکس نیٹ سے باہر ہزاروں ڈاکٹروں کے خلاف ایف بی آر حرکت میں
ایف بی آر کی کارروائی کا نیا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی آمدنی تو اچھی خاصی ہے لیکن وہ ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اس دوران تقریباً 73 ہزار ایسے ڈاکٹرز اور دیگر افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو بھاری آمدن کے باوجود ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 منظور
نشاندہی کا طریقہ کار
ہم نیوز کے مطابق ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے ان افراد کی نشاندہی بینکنگ ڈیٹا، جائیداد ریکارڈز، مہنگی گاڑیوں کی ملکیت اور بڑے مالی لین دین کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ کئی ڈاکٹرز نجی ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز سے لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں مگر باقاعدہ ٹیکس فائلر نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں شرکت پر تنقید، شعیب ملک نے خاموشی توڑ دی
مرحلہ وار کارروائی کی منصوبہ بندی
حکام کا کہنا ہے کہ نان فائلرز کے خلاف مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی، جس میں نوٹسز، آڈٹ، بینک اکاؤنٹس کی جانچ اور قانونی سزائیں شامل ہو سکتی ہیں۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا فرد اگر آمدن رکھتا ہے تو ٹیکس دینا اس کی قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں خودکش دھماکے کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ، شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کا دورانیہ بڑھا دیا گیا
معاشی استحکام کے لیے اقدامات
ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ ایماندار ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکس چوری کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
آنے والے دنوں کی توقعات
حکام نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں دیگر پیشہ ور شعبوں سے تعلق رکھنے والے نان فائلرز کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں کی جائیں گی۔








