ٹیکس نیٹ سے باہر ہزاروں ڈاکٹروں کے خلاف ایف بی آر حرکت میں
ایف بی آر کی کارروائی کا نیا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی آمدنی تو اچھی خاصی ہے لیکن وہ ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اس دوران تقریباً 73 ہزار ایسے ڈاکٹرز اور دیگر افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو بھاری آمدن کے باوجود ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں حقِ حکمرانی میں حصہ اور تمام زبانوں کا احترام چاہیے: محمود خان اچکزئی کا جامشورو میں جلسے سے خطاب
نشاندہی کا طریقہ کار
ہم نیوز کے مطابق ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے ان افراد کی نشاندہی بینکنگ ڈیٹا، جائیداد ریکارڈز، مہنگی گاڑیوں کی ملکیت اور بڑے مالی لین دین کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ کئی ڈاکٹرز نجی ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز سے لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں مگر باقاعدہ ٹیکس فائلر نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم پنڈی جا رہے تھے صاحب بولے”سی ڈی لگاؤ، دیکھیں کیا تیر مارا ہے”2 گھنٹے تک گیت سن کربولے ”کمال کر دیا، بھولی بسری یادیں تازہ کرا دیں“
مرحلہ وار کارروائی کی منصوبہ بندی
حکام کا کہنا ہے کہ نان فائلرز کے خلاف مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی، جس میں نوٹسز، آڈٹ، بینک اکاؤنٹس کی جانچ اور قانونی سزائیں شامل ہو سکتی ہیں۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا فرد اگر آمدن رکھتا ہے تو ٹیکس دینا اس کی قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رپورٹر کی جانب سے ‘میڈیم پیسر’ پکارے جانے پر جسپریت بمراہ برا مان گئے
معاشی استحکام کے لیے اقدامات
ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ ایماندار ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکس چوری کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
آنے والے دنوں کی توقعات
حکام نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں دیگر پیشہ ور شعبوں سے تعلق رکھنے والے نان فائلرز کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں کی جائیں گی۔








