یہ بھی ممکن ہے کہ بالکل نئی پٹری بچھائی جائے جو پرانے وقتوں کے سارے دکھوں کو بھلا کر خراماں خراماں افغانستان کی سرحد تک جا پہنچے

پشاور سے طورخم: جدید ریلوے لائن کی تعمیر

مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 338
پشاور۔ طورخم
پاکستان ریلوے ایک اور بڑے اور بین الاقوامی منصوبے کے تحت پشاور سے طورخم تک جدید معیار کی ایک نئی ریلوے لائن تعمیر کرے گی جو پرانی خیبر ریلوے کی جگہ بنائی جائے گی۔ عہد حاضر کی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب کی بار یہ کام بڑی آسانی سے اور جلد ہو جائے گا اور انتہائی مؤثر انداز سے اس ریلوے لائن کی تکمیل ہو سکے گی۔ یہ بھی ممکن ہے بیسویں صدی کے آغاز میں بنی ہوئی ریلوے لائن کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے ایک بالکل نئی پٹری بچھائی جائے جو پرانے وقتوں کے سارے دکھوں کو بھلا کر خراماں خراماں افغانستان کی سرحد تک جا پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کی تجویز شامل، 50 ارب روپے تک فائدہ

طورخم سے بین الاقوامی روابط

طورخم سے یہ گاڑی جلال آباد اور کابل سے ہوتی ہوئی مزار شریف اور پھر آگے نو آزاد وسط ایشیائی راستوں سے بھی ناتا جوڑ لے گی۔ اس ریلوے لائن میں چین بھی بہت دلچسپی رکھتا ہے کہ اس کے ذریعے وہ اپنی مصنوعات یہاں بھیجنے اور خام مال درآمد کرنے کے لیے ان ممالک سے ریلوے کا رابطہ رکھ سکے گا۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہو گا جب افغانستان کے داخلی حالات بہتر ہو جائیں اور وہاں پائیدار امن قائم ہو۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد کے نوجوان لڑکے اور لڑکی کو مردان میں قتل کر دیا گیا

چمن سے قندھار: تاریخی منصوبے کی بحالی

پاکستان کی ایم ایل-3 یعنی کوئٹہ۔ چمن لائن کی توسیع کر کے اس کو بآسانی افغانستان کے شہر قندھار تک لے جایا جا سکتا ہے۔ دراصل جب انگریز کوئٹہ سے چمن کی ریلوے لائن بچھا رہے تھے تو اس کو چمن سے آگے قندھار تک لے جانے کا منصوبہ بھی اسی لائن کا حصہ تھا اور اس کے لیے انھوں نے تمام ضروری انتظامات بھی کر لیے تھے۔ پھر کچھ سیاسی اور دفاعی سوچ و بچار کے بعد چمن سے قندھار تک ریلوے لائن بچھانے کا یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 1965 میں پاک بحریہ کی وہ کارروائی جس نے بھارتی آبی فوج کے اوسان ہی خطا کردیے تھے

نئے راستوں کی تلاش

اب اگر یہ منصوبہ دوبارہ شروع ہوتا ہے تو افغانستان کے شہر قندھار سے اس کے دو راستے بن جائیں گے، ایک تو قندھار سے کابل تک ریلوے لائن بنے گی جو اوپر مزار شریف سے ہوتی ہوئی وسط ایشیائی راستوں کی طرف نکل جائے گی۔ دوسرا راستہ جو کھلے گا وہ قندھار سے کشکہ ترکمانستان کا ہے۔ اس طرح وسطی ایشیاء کی تقریباً تمام ریاستوں اور ممالک جو چاروں طرف سے محصور ہیں، ان راستوں یعنی کابل اور قندھار کی طرف سے پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

اسلام آباد، مری اور مظفر آباد: نئے منصوبے کا آغاز

مظفرآباد آزاد جموں کشمیر کا دارالحکومت ہے جس سے ریل کا رابطہ بہت ضروری سمجھا گیا تھا، تاہم ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ محکمہ ریلوے اور پاکستان حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا تھا۔ اب جب کہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا گیا تو اس کو قابل عمل پا کر اس نئی ریلوے لائن کو اسلام آباد سے مری اور مظفر آباد تک پہنچنے کا عزم کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...