جب سوچ اور طرزِ حکمرانی ایسا ہو تو پھر اداروں کا زوال پذیر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، شاید ایسی باتیں ہم اپنے منصب اور حیثیت کی پہچان سمجھتے ہیں

مصنف: شہزاد احمد حمید

قسط: 379

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا؟

میری پہلی جواب طلبی

بطور سیکشن افسر مجھے ایک افسر مسٹر ساجد، ڈپٹی ڈائریکٹر کچی آبادی کے خلاف انکوائری میں ڈی آر مقرر کیا گیا۔ مذکورہ افسر کو سزا سنائی گئی اور وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں چلا گیا۔ انکوائری کے دونوں گواہان پرائیویٹ لوگ تھے جو اپیل میں پیش نہ ہوئے۔ شنید تھی کہ مذکرہ افسر نے انہیں لالچ دے کر خاموش کرا دیا۔ وہ تو حاضر نہ ہوئے، البتہ انہیں پیش نہ کرنے کے جرم میں میری بطور پہلی اور آخری جواب طلبی ہوگئی۔ اس وقت خضر حیات گوندل سیکرٹری بلدیات تھے، جو نیک نام افسر تھے (بعد میں چیف سیکرٹری پنجاب بھی رہے)۔ ان کی ایک کمزوری تھی کہ خود چاہے ساری سزا معاف کردیں لیکن اگر کسی انکوائری افسر نے ملزم افسر کو سزا نہیں دی تو ان کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ Boss is always right.

یہ بھی پڑھیں: آئین کے آرٹیکل 8/3 میں کیا ہے؟ کیا سویلینز اس کے زمرے میں آتے ہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی کا استفسار

اسلام آباد میں دو ماہ

میرا دوست نعیم کنسٹریکشن کا کاروبار دبئی، ملائیشیا، تاجکستان وغیرہ کرتا تھا۔ دبئی سے وہ اسلام آباد اسی سلسلے آیا کہ چوہدری احمد مختار، جو اس وقت وزیر دفاع اور چیئرمین پی آئی اے تھے (فوت ہو گئے ہیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین)، نعیم کی اُن سے گہری نیازمندی تھی۔ یہ مل کر تعمیرات کا کاروبار شروع کرنے والے تھے۔ مجھے بھی نعیم نے اپنے ساتھ چند ماہ کام کرنے کو کہا، کہ اسلام آباد کے ایف ٹین مرکز میں اسے اپنا دفتر establish کرنا تھا۔ میں دو ماہ کی چھٹی لے کر اس کے ساتھ اسلام آباد چلا آیا۔ دفتر بنایا۔ کاروبار کے لیے کئی بار عراقی سفیر سے ملاقات ہوئی۔ بغداد کے کئی پراجیکٹس میں ہم نے دلچسپی دکھائی۔ بات کچھ آگے چلی۔ میں تو عراقی سفارت خانے جانے کو بے چین رہتا۔ کئی بار پی آئی اے کے دفتر بلیوایریا جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ اسی بلڈنگ میں چیئرمین پی آئی اے کا بھی دفتر تھا۔ کبھی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوتا تو پی آئی اے کے کیچن سے ایسے خوشبودار اور لذیذ کھانے آتے کہ ناک کے نتھنے خوشبو سے اور پیٹ کا دوزخ ان کی لذت سے بھر جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا پراپرٹی کے نئے ریٹ جاری کرنے کا فیصلہ

کاروباری منصوبے

احمد مختار اور نعیم نے مل کر کراچی ایئرپورٹ سے چند کلومیٹر فاصلے پر ایک کئی منزلہ ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا اور وہاں سرکاری زمین اس مقصد پر لیز پر لینا چاہی۔ میں نے دو تین بار نعیم سے کہا: "یار! چوہدری احمد مختار تیرے ساتھ مخلص نہیں۔" وہ ہنس دیتا۔ بعد میں میری کہی بات سو فیصد درست ثابت ہوئی۔ نعیم پچھتایا کرتا تھا۔ سیانے کہتے ہیں جب چڑیاں چک جائیں کھیت تو پھر آنسو نہیں بلکہ کف افسوس کرتے ہیں۔ دو بار مجھے بھی اُن کے ساتھ کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ ٹکٹ رعایتی نرخوں میں ملتے۔ سفر فرسٹ کلاس میں ہوتا۔ دونوں بار ہم پی آئی اے کی شیڈول فلائیٹ ٹائم کے پندرہ بیس منٹ تاخیر سے ہی ہوائی اڈے پہنچے تھے۔ میں نعیم سے کہتا؛ "یار! جہاز تو اُڑ گیا ہوگا۔" جواب ملتا، "جہاز ہمارا انتظار کرے گا کہ وزیر دفاع اور ان کے دوست اسی فلائیٹ سے جا رہے ہیں۔" ایسا ہی ہوتا۔ جب سوچ اور طرزِ حکمرانی ایسا ہو تو پھر ملک کے اداروں کا زوال پذیر بلکہ تباہ ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ شاید ایسی باتیں ہم اپنے منصب اور حیثیت کی پہچان سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی ہماری۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...