زرعی بحالی کے لیے سلام کسان کی اہمیت
زرعی معیشت کا بحران
مصنف: ذوالقرنین حیدر
پاکستان کی زرعی معیشت شدید خطرے میں ہے۔ ملک کے تقریباً 37 فیصد مزدور براہِ راست زرعی شعبے سے وابستہ ہیں، مگر یہ شعبہ ماحولیاتی آفات، پانی کی کمی، مٹی کی خراب حالت اور پرانی زرعی تکنیکوں کے سبب مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ حالیہ مون سون کی تباہ کن سیلاب نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تباہ کر دی اور تقریباً 90 لاکھ شہریوں کی روزی کو خطرے میں ڈال دیا، جس سے خوراک کی حفاظت اور دیہی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہوکر ہوٹل میں گھس گئی، ایک شخص جاں بحق
عالمی زرعی نقصانات کا جائزہ
خوراک اور زراعت کی عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 30 سال میں دنیا بھر میں زرعی نقصان 3.26 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جس میں ایشیا نے غیر متناسب حصہ اٹھایا، اور پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ یہ حقیقت خوراک اور زراعت کی عالمی تنظیم کی رپورٹ میں بھی بیان کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد طاقتوروں کو استثنیٰ دلانا ہے، حافظ نعیم
جدید زرعی تکنیکوں کی اہمیت
جنوبی پنجاب میں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہ کسان جنہوں نے موسمیاتی سمجھ بوجھ پر مبنی زرعی طریقے اپنائے، گندم کی پیداوار سے نمایاں زیادہ منافع حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سیٹلائٹ اور جدید مشین لرننگ کے ماڈلز خشک علاقوں میں گندم کی پیداوار کی درست پیش گوئی کر رہے ہیں، جس سے منصوبہ ساز فصل کی کمی کا بروقت اندازہ لگا سکتے ہیں اور کسان بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ قابلِ اعتماد نہیں رہا؟ ایک اور فیملی بھٹک کر گھنے جنگل میں جا پھنسی
اسمارٹ آبیاری اور ماحولیاتی نگرانی
جدید آبیاری کے سمارٹ نظام اور ماحولیاتی نگرانی کے جدید آلات کسانوں کو موسمی تبدیلیوں کے مطابق فوری ردعمل کی سہولت دے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں پائلٹ پروگرامز نے فصل کی صحت کی حقیقی وقت نگرانی کے ذریعے نقصانات کو کم کرنے کا عملی ثبوت دیا، جبکہ چکوال جیسے پانی کی کمی والے اضلاع میں ڈیجیٹل آبیاری نے فصل کی پیداوار اور پانی کے انتظام کو بہتر بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی رینکنگ جاری کردی، ابرار احمد 12درجے بہتری کے بعد 4نمبر پر آگئے
فاطمہ فرٹیلائزر کا کردار
موسمیاتی دباؤ میں اضافے کے پیشِ نظر بعض نجی شعبے کے اداروں نے خطرے کی ابتدائی علامات کو پہچان کر بروقت اقدامات کرنا شروع کر دیے۔ فاطمہ فرٹیلائزر نے روایتی زرعی طریقوں اور ملک کی بدلتی ہوئی موسمی حقیقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو واضح طور پر محسوس کیا۔ 2019 میں کسّان ڈے کا آغاز کیا گیا، جو کسانوں کی خدمات کو سراہنے اور ان کے معاشی مسائل پر قومی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش ہے۔
فاطمہ فرٹیلائزر کی ‘سلام کسّان’ مہم نے کسانوں کی آواز کو بلند کیا، ان کے مسائل کو دستاویزی شکل میں پیش کیا اور پاکستان کی خوراکی حفاظت میں ان کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی قوانین کی خلاف ورزی آپ کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے – امریکی سفارتخانے نے بھارتی طلباء کو خبردار کیا
جدید زراعت میں سرمایہ کاری
کسانوں کی حمایت اور بااختیار بنانے کے اقدامات کے ساتھ، فاطمہ فرٹیلائزر نے جدت میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجیز، جیسے غذائی نقشہ سازی، بہتر آبپاشی اور ہائبرڈ بیج کی تیاری، وسائل کی بچت اور موسمی نقصانات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا: انسانی حقوق کے علمبردار جیسی لویس جیکسن انتقال کرگئے
زرعی معیشت کا مستقبل
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی دہائی میں پاکستان کی زراعت کو مضبوط کرنے کے لیے فوری، اور مستقل اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ صرف پیداوار بڑھانے کا مسئلہ نہیں، بلکہ روزگار کی حفاظت، قومی معیشت کا استحکام، قدرتی وسائل کے تحفظ اور 2.4 کروڑ سے زائد شہریوں کے لیے خوراک کی سلامتی کا معاملہ ہے۔
جدید زراعت اب صرف خواب نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر پانی اور غذائی ضیاع کو کم کرتے ہوئے پیداوار بڑھانے والے جدید نظاموں کا استعمال کر رہی ہے۔
خلاصہ
چیلنج جتنا بڑا ہے، موقع بھی اتنا ہی بڑا ہے۔ موسمیاتی سمجھ بوجھ پر مبنی زرعی طریقے اور عوامی و نجی شراکت داری کے ذریعے پاکستان بحران سے بحالی کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ مستقل عزم کے ساتھ، اگلی دہائی پاکستان کی زرعی تاریخ میں ایک نیا دور لا سکتی ہے—جدید، مضبوط اور خوشحال زراعت جو ملک کو کھلائے اور مستقبل محفوظ بنائے۔








