سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 کے 22 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ معطل کر دیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 کے 22 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ معطل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، اگر پی ٹی آئی نہ سمجھی!
سماعت کی تفصیلات
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شہزاد احمد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے 22 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 سالہ بچی کی لاش برآمد، جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف
وکیل کی جانب سے پیشی
جے یو آئی کے سید سمیع اللہ کی جانب سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کے علاوہ کسی کمیٹی یا فرد کو مذاکرات کی اجازت یا اختیار نہیں: عون عباس بپی
اہم معلومات
واضح رہے کہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ 251 میں جے یو آئی کے سمیع اللہ کامیاب ہوئے تھے اور 22 پولنگ اسٹیشنز پر فارم 45 مسنگ ہونے پر ان پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا گیا تھا۔
چیلنج کی کارروائی
دوبارہ پولنگ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔








