جمی لائی سے متعلق فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق ہے، ہانگ کانگ حکومت

جمی لائی کے مقدمے کا فیصلہ

ہانگ کانگ(شِنہوا)چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے (ایچ کے ایس اے آر) کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جمی لائی کے قومی سلامتی کے مقدمے کا فیصلہ ٹھوس بنیادوں پر مبنی اور مناسب ہے۔ یہ اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ عدالت نے قانون اور شواہد کی مکمل تعمیل میں کارروائی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صنعتی مزدوروں کے لیے 84 ارب روپے کا مجموعی پیکج، وزیراعلیٰ مریم نواز نے راشن کارڈ لانچ کر دیا، 3 ہزار ماہانہ سبسڈی ملے گی

عدالت کی وضاحت

ترجمان نے ایک آن لائن بیان میں کہا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ لائی کو ان کے سیاسی خیالات یا عقائد کی وجہ سے مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ یہ فیصلہ کسی مداخلت یا سیاسی تحفظات سے پاک ہے۔ جمی لائی کو گذشتہ روز 2 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا، جن میں بیرونی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت اور تخریبی مواد شائع کرنا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف سے اتوار سے مذاکرات کا آغاز ہوسکتا ہے: رانا ثنا اللہ

چیف ایگزیکٹو کا تبصرہ

اس کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایچ کے ایس اے آر کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا کہ اس فیصلے نے قانون کی عدل پسندی کی مکمل عکاسی کی ہے اور ہانگ کانگ کے بنیادی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ قانون کبھی بھی کسی کو بھی انسانی حقوق، جمہوریت یا آزادی کے نام پر اپنے ملک یا ہم وطنوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی پی پیز سے معاہدے ختم، مزید8 بارے جلد خوشخبری سنائیں گے: عطا تارڑ

حکومت کا مؤقف

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ کے ایس اے آر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کا تحفظ کرے اور اس کو خطرے میں ڈالنے والے طرز عمل اور سرگرمیوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: خصوصی رپورٹ انٹرویوز کی بنیاد پر ہے اور جو مواد ہمیں ملا، اس کا صرف 10 فیصد رپورٹ میں ہے، بشریٰ تسکین کا موقف آگیا۔

مغربی طاقتوں کی مداخلت

ترجمان نے بیان میں کہا کہ لائی کے کیس کو مختلف حلقوں، خاص طور پر امریکہ کی قیادت میں مغربی طاقتوں کی طرف سے تہمتوں اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض پوشیدہ مقاصد رکھنے والے افراد نے اس کیس میں مجرمانہ رویے کو صحافتی آزادی کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے۔ درحقیقت ہانگ کانگ کے لوگ ایچ کے ایس اے آر کے بنیادی قانون اور ہانگ کانگ بل آف رائٹس آرڈیننس کے تحت صحافت اور اظہار رائے کی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم، صدرمملکت آج دستخط کریں گے

صحافتی آزادی کا تعلق

ترجمان نے واضح کیا کہ لائی کے کیس کا صحافتی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدعا علیہان نے کئی برسوں تک خبری رپورٹنگ کا سہارا لے کر ملک اور ہانگ کانگ کے لئے نقصان دہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی کا بہاولپور میں اہم اجلاس، امن کمیٹی اور علمائے کرام سے ملاقات، 151 افراد فورتھ شیڈول میں شامل

مدد کی سہولیات

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ لائی کو ان کی حراست کے دوران جامع طبی نگہداشت فراہم کی گئی ہے اور ان کی خواہشات کے مطابق مذہبی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

قومی سلامتی کے خطرات

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس خطے کو اب بھی قومی سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے، ترجمان نے کہا کہ ایچ کے ایس اے آر حکومت ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون اور قومی سلامتی کے تحفظ کے آرڈیننس کے تحت قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...