جمی لائی سے متعلق فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق ہے، ہانگ کانگ حکومت
جمی لائی کے مقدمے کا فیصلہ
ہانگ کانگ(شِنہوا)چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے (ایچ کے ایس اے آر) کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جمی لائی کے قومی سلامتی کے مقدمے کا فیصلہ ٹھوس بنیادوں پر مبنی اور مناسب ہے۔ یہ اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ عدالت نے قانون اور شواہد کی مکمل تعمیل میں کارروائی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چکوال، تلہ گنگ میں مسافر بس کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق، 27 زخمی
عدالت کی وضاحت
ترجمان نے ایک آن لائن بیان میں کہا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ لائی کو ان کے سیاسی خیالات یا عقائد کی وجہ سے مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ یہ فیصلہ کسی مداخلت یا سیاسی تحفظات سے پاک ہے۔ جمی لائی کو گذشتہ روز 2 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا، جن میں بیرونی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت اور تخریبی مواد شائع کرنا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر کے لیے پوری قوم یکجا ہے، شہباز حسین چوہدری
چیف ایگزیکٹو کا تبصرہ
اس کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایچ کے ایس اے آر کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا کہ اس فیصلے نے قانون کی عدل پسندی کی مکمل عکاسی کی ہے اور ہانگ کانگ کے بنیادی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ قانون کبھی بھی کسی کو بھی انسانی حقوق، جمہوریت یا آزادی کے نام پر اپنے ملک یا ہم وطنوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جمخانہ گالف چیمپئن شپ میں حسین حامد کا شاندار آغاز
حکومت کا مؤقف
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ کے ایس اے آر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کا تحفظ کرے اور اس کو خطرے میں ڈالنے والے طرز عمل اور سرگرمیوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی کا بھروسہ نہیں، ہو سکتا ہے کہ میرے فعال کیریئر کے آخری دس برس ہوں، عامر خان کی دلچسپ گفتگو
مغربی طاقتوں کی مداخلت
ترجمان نے بیان میں کہا کہ لائی کے کیس کو مختلف حلقوں، خاص طور پر امریکہ کی قیادت میں مغربی طاقتوں کی طرف سے تہمتوں اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض پوشیدہ مقاصد رکھنے والے افراد نے اس کیس میں مجرمانہ رویے کو صحافتی آزادی کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے۔ درحقیقت ہانگ کانگ کے لوگ ایچ کے ایس اے آر کے بنیادی قانون اور ہانگ کانگ بل آف رائٹس آرڈیننس کے تحت صحافت اور اظہار رائے کی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا مودی جارحیت دہراتا رہے گا: مشعال ملک
صحافتی آزادی کا تعلق
ترجمان نے واضح کیا کہ لائی کے کیس کا صحافتی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدعا علیہان نے کئی برسوں تک خبری رپورٹنگ کا سہارا لے کر ملک اور ہانگ کانگ کے لئے نقصان دہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے مختلف ممالک سے بھیک مانگنے پر ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیے جانے کا انکشاف
مدد کی سہولیات
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ لائی کو ان کی حراست کے دوران جامع طبی نگہداشت فراہم کی گئی ہے اور ان کی خواہشات کے مطابق مذہبی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
قومی سلامتی کے خطرات
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس خطے کو اب بھی قومی سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے، ترجمان نے کہا کہ ایچ کے ایس اے آر حکومت ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون اور قومی سلامتی کے تحفظ کے آرڈیننس کے تحت قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گی۔








