جمی لائی سے متعلق فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق ہے، ہانگ کانگ حکومت
جمی لائی کے مقدمے کا فیصلہ
ہانگ کانگ(شِنہوا)چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے (ایچ کے ایس اے آر) کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جمی لائی کے قومی سلامتی کے مقدمے کا فیصلہ ٹھوس بنیادوں پر مبنی اور مناسب ہے۔ یہ اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ عدالت نے قانون اور شواہد کی مکمل تعمیل میں کارروائی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھونکنے والے ڈرون، جاپان میں ریچھوں کو آبادی سے دور رکھنے کے لیے انوکھا طریقہ استعمال کرنے کا فیصلہ
عدالت کی وضاحت
ترجمان نے ایک آن لائن بیان میں کہا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ لائی کو ان کے سیاسی خیالات یا عقائد کی وجہ سے مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ یہ فیصلہ کسی مداخلت یا سیاسی تحفظات سے پاک ہے۔ جمی لائی کو گذشتہ روز 2 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا، جن میں بیرونی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت اور تخریبی مواد شائع کرنا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راستے بند: بانیٔ پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس ٹو، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی
چیف ایگزیکٹو کا تبصرہ
اس کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایچ کے ایس اے آر کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا کہ اس فیصلے نے قانون کی عدل پسندی کی مکمل عکاسی کی ہے اور ہانگ کانگ کے بنیادی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ قانون کبھی بھی کسی کو بھی انسانی حقوق، جمہوریت یا آزادی کے نام پر اپنے ملک یا ہم وطنوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکپتن کے ہسپتال میں 20 بچوں کی موت کا معاملہ، مدعی مقدمہ اور محکمہ صحت کے حکام میں صلح، ملزمان کی ضمانتیں منظور
حکومت کا مؤقف
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ کے ایس اے آر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کا تحفظ کرے اور اس کو خطرے میں ڈالنے والے طرز عمل اور سرگرمیوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بارش سے مشکلات ۔۔۔ وزیراعلیٰ سندھ کی شہریوں سے’’معذرت ‘‘، انتظامیہ کو ’’شاباش ‘‘
مغربی طاقتوں کی مداخلت
ترجمان نے بیان میں کہا کہ لائی کے کیس کو مختلف حلقوں، خاص طور پر امریکہ کی قیادت میں مغربی طاقتوں کی طرف سے تہمتوں اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض پوشیدہ مقاصد رکھنے والے افراد نے اس کیس میں مجرمانہ رویے کو صحافتی آزادی کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے۔ درحقیقت ہانگ کانگ کے لوگ ایچ کے ایس اے آر کے بنیادی قانون اور ہانگ کانگ بل آف رائٹس آرڈیننس کے تحت صحافت اور اظہار رائے کی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہاتھ خوشی کے ساتھ نہیں ملایا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان کا بیان
صحافتی آزادی کا تعلق
ترجمان نے واضح کیا کہ لائی کے کیس کا صحافتی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدعا علیہان نے کئی برسوں تک خبری رپورٹنگ کا سہارا لے کر ملک اور ہانگ کانگ کے لئے نقصان دہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ماپوسا کی یلغار اور پاکستان کا کلین سویپ سے ایک قدم پیچھے ہانپنا
مدد کی سہولیات
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ لائی کو ان کی حراست کے دوران جامع طبی نگہداشت فراہم کی گئی ہے اور ان کی خواہشات کے مطابق مذہبی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
قومی سلامتی کے خطرات
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس خطے کو اب بھی قومی سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے، ترجمان نے کہا کہ ایچ کے ایس اے آر حکومت ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون اور قومی سلامتی کے تحفظ کے آرڈیننس کے تحت قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گی۔








