انجنیر سر جوڑ کر بیٹھیں تاکہ ایسے مقامات کم سے کم آئیں جہاں ریلوے کا گیج تبدیل کیا جا سکے، فی الحال اس مسئلے کا پائیدار حل نظر نہیں آتا۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 339
یہ بھی پڑھیں: امارات دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے، محمد بن زاید النہیان
مارگلہ ریلوے اسٹیشن کا راستہ
یہاں سے قریب ترین اسلام آباد کا مارگلہ ریلوے اسٹیشن ہی پڑتا ہے۔ اسلام آباد سے یہاں کا راستہ کوئی 130 کلومیٹر ہے۔ اسلام آباد تک پہلے سے ہی پاکستان کی مرکزی لائن ایم ایل کا رابطہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم پی ایز اور ایم این ایز نہیں چاہتے کہ ادارے بااختیار ہوں کیونکہ ان کی چوہدراہٹ پر آنچ آتی ہے، جبکہ بیوروکریسی عیاشی چھوڑ کر عوامی خدمت کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ڈرائی پورٹ کی سہولیات
دوسرا مارگلہ میں چونکہ ایک ڈرائی پورٹ بھی موجود ہے اس لئے مال گاڑیوں اور سامان کو مری اور مظفر آباد تک لے جانے کی سہولت بھی مل سکتی ہے۔ لیکن اسلام آباد سے مری اور پھر مظفر آباد تک کا راستہ کافی دشوار گزار ہے، کیونکہ راستے میں اونچی نیچی پہاڑیاں، گہری کھائیاں، نیلم، جہلم دریا اور نالے وغیرہ آتے ہیں۔ گاڑی کو وہاں تک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات بھی کرنے پڑیں گے جس میں شاید کچھ سرنگیں اور پل وغیرہ بھی تعمیر کرنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: میری ہمت، مردانہ وار قدم بڑھا دیا، اور میں اندر چارپائیوں کے درمیان کھڑا تھا، دروازہ بند کیا لیکن کنڈی چڑھانے کا عمل نا جانے کیوں تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
منصوبے کی تکمیل کے مراحل
محکمہ ریلوے نے اس منصوبے کو دو حصوں میں مکمل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ پہلے حصے میں ریلوے لائن اسلام آباد سے مری تک لیجائی جائے گی اور پھر وہاں سے اسے مظفرآباد سے ملا دیا جائے گا۔ اس پر ابتدائی کام اور فزیبلٹی رپورٹ بن چکی ہے اور جوں ہی اس کی اعلیٰ پیمانے پر منظوری ہو جائے گی، تو اس پر کام شروع ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے J-15 طیاروں کے جاپانی فائٹرز کو لاک کرنے پر تنازعہ
بریک آف گیج کا مسئلہ
یہاں تک تو سب صحیح ہے، یہ منصوبے بہت اچھے لگ رہے ہیں اور ان شاء اللہ یہ مکمل بھی ہو جائیں گے۔ البتہ بین الاقوامی ریل گاڑیوں کی لائنوں پر چلنے کے کچھ سنجیدہ نوعیت کی مشکلات بھی متوقع ہیں، جس میں سب سے بڑا مسئلہ تو پٹری کے گیج کا ہے۔ پاکستان کا سارا ریلوے نظام براڈ گیج یعنی چوڑی پٹری پر قائم ہے جو پانچ فٹ چھ انچ ہے، جب کہ اس وقت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ریل کی پٹریاں سٹینڈرڈ گیج یعنی چار فٹ ساڑھے آٹھ انچ پر بنی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
حل کی تجاویز
اس مسئلے کو حل کرنے کے 3 طریقے ہیں:
- پہلا حل: براڈ گیج پر بچھائی گئی تمام پٹریوں، گاڑیوں، انجنوں اور بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر کے سٹینڈرڈ گیج کے مطابق بنایا جائے۔
- دوسرا حل: کچھ نئی پٹریاں بین الاقوامی سٹینڈرڈ گیج پر بنائی جائیں تاکہ کم از کم کچھ حصوں میں یہ نظام چل سکے۔
- تیسرا حل: تمام براڈ گیج پٹریوں کے بیچ میں ایک اضافی پٹری سٹینڈرڈ گیج کی بھی بچھا دی جائے تاکہ اس پر دونوں طرح کی گاڑیاں چل سکیں۔
مضمرات اور چیلنجز
مگر یہ کام بھی اتنا آسان نہیں ہے کہ ہزاروں کلومیٹر طویل پٹریوں کے بیچ میں ایک اضافی پٹری بنائی جائے۔ پھر اس پر چلنے کے لیے خصوصی انجن اور بوگیوں یا مال گاڑیوں کی ویگنیں منگوانا پڑیں گی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








