فیض حمید نے 2 قیمتی گاڑیاں ثاقب نثار اور ان کے بیٹے کو دیں، بیٹے والی گاڑی ریکور ہوچکی ہے، کرنل (ر) انعام الرحیم
عرباب فیض حمید کے بارے میں انکشافات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) کرنل (ر) انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ فیض حمید جن جن لوگوں کے ذریعے جیل میں عمران خان سے رابطوں کی کوشش کرتے رہے، سب کے شواہد موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: سیکٹر ایف 8 فور کے گھر میں گھسنے والے جنگلی بندر کو پکڑ لیا گیا
ٹاپ سٹی کے مالک کو گفٹ کی گئی قیمتی گاڑیاں
جنرل فیض نے ٹاپ سٹی کے مالک کی دو قیمتی گاڑیاں اٹھا کر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کے بیٹے کو گفٹ کر دیں۔ چیف جسٹس کے بیٹے والی گاڑی ریکور ہو کر اس کیس کا حصہ بن چکی ہے۔ جنرل فیض یہ سب اس یقین کے ساتھ کر رہے تھے کہ بطور سابق آئی ایس آئی چیف کوئی انہیں ہاتھ نہیں لگائے گا اور معاملات دبے رہیں گے مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فیصلہ کیا کہ اب پہلے اپنا ہاؤس اِن آرڈر کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان: دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر شوہر نے بیوی کو قتل کروادیا
نجی ٹی وی ہم نیوز کا پروگرام
نجی ٹی وی ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے شواہد دیکھے ہیں، 9 مئی کے مقدمات میں مطلوب کئی ملزمان اور یوٹیوبرز جنرل فیض کے فارم ہاؤس میں چھپے ہوئے تھے۔ فیض حمید 9 مئی کے وقت، اس سے پہلے اور بعد میں ان سے رابطے میں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور
موبائل سم کی تبدیلی
وہ آئے روز اپنی موبائل سِم بدلتے تھے اور پھر کسی ایک کو فون کر کے بتاتے تھے یہ میرا نیا نمبر ہے سب کو بتا دو۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ جڑے ہر شخص کا فون ریکارڈ ہو رہا تھا، ہر نئی سم ڈلنے کے پندرہ بیس منٹ میں ریکارڈنگ سسٹم میں آجاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آئرلینڈ کا آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
گرفتاری کے بعد کی صورتحال
انعام الرحیم کے مطابق جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد فوج نے ان کا لیپ ٹاپ اور موبائل قبضے میں لیا تو اس میں بہت سے ٹاپ سیکرٹ ڈاکومنٹ ملے جو وہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے۔ ان سے ملنے والے ثبوتوں کے مطابق جنرل فیض پی ٹی آئی کے سیاسی رہنماوں، یوٹیوبرز سے رابطے میں تھے اور ان کو ہاتھ سے لکھے ٹویٹس اور یوٹیوب پروگرام کے لیے مواد بھیجتے تھے جو قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔
ثبوت جمع کرنے کا عمل
جنرل فیض یہ سب شوقیہ تحریری طور پر کر کے اپنے پاس فائل میں رکھتے تھے تاکہ وقت آنے پر استعمال کر سکیں مگر انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنے ہی خلاف ثبوت جمع کر رہے ہیں۔ جنرل فیض سے جو چیزیں برآمد ہوئی ہیں وہ انہوں نے سمری ٹرائل میں مان لی ہیں۔








