ڈگری کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس جہانگیری کے 2 اعتراض مسترد کر دیے
جسٹس طارق جہانگیری کے اعتراضات مسترد
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) کے اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کے 2 اعتراضات مسترد کر دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی جاری، مزید 556 کوئٹہ پہنچ گئے
عدالت کا حکمنامہ
نجی ٹی وی چینل دنیانیوز کے مطابق، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے چار صفحات پر مشتمل حکمنامے میں جسٹس طارق جہانگیری کا سنگل بنچ کی بجائے دو رکنی بنچ کی تشکیل سے متعلق اعتراض مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور، زخمی ہونے کے باوجود پولیس اہلکار کی مستقل مزاجی اور بہادری نے بینک ڈکیتی ناکام بنا دی
حساسیت کی بنا پر بنچ کی تشکیل
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے ایک جج کی ڈگری سے متعلق سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انتظامی اختیار کے تحت 2 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا۔ بنچ کی تشکیل چیف جسٹس ہائیکورٹ کا صوابدیدی اختیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعوے بے نقاب، پہلگام حملے میں مردہ قرار دیاگیا جوڑا زندہ نکلا
خصوصی بنچ کی تشکیل کی قانونی حیثیت
حکمنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی بنچ کی تشکیل کوئی پہلی مثال نہیں ہے۔ جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر تعصب کے اعتراض کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری اور دیگر ججز کی چیف جسٹس کے تبادلے کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت سے مسترد ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بھی اب کراچی والی صورتحال ہو گئی ہے،میرے اپنے جاننے والوں کو بھتے کی پرچیاں آئی ہیں،چیف جسٹس عامر فاروق
اعتراضات کی عدم قانونی حیثیت
تحریری حکمنامہ کے مطابق، جج پر تعصب کی بنیاد پر بنچ سے علیحدگی کے اصول پر اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلے موجود ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ نے 1966 سے 2023 تک کے فیصلوں میں جج پر اعتراض کے اصول واضح کر چکی ہے، جبکہ جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر اعتراض کی کوئی قانونی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
ریکارڈ کی فراہمی کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے جسٹس جہانگیری کو درخواست کا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس جہانگیری کو یونیورسٹی کا جمع کرایا گیا مکمل جواب اور ریکارڈ بھی دینے کا حکم دیا گیا۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی فریق بنانے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔








