ڈگری کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس جہانگیری کے 2 اعتراض مسترد کر دیے
جسٹس طارق جہانگیری کے اعتراضات مسترد
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) کے اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کے 2 اعتراضات مسترد کر دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی قیادت، محفوظ بسنت کی ضمانت
عدالت کا حکمنامہ
نجی ٹی وی چینل دنیانیوز کے مطابق، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے چار صفحات پر مشتمل حکمنامے میں جسٹس طارق جہانگیری کا سنگل بنچ کی بجائے دو رکنی بنچ کی تشکیل سے متعلق اعتراض مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ روایتی و غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے،چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا 54ویں سٹاف کورس کے شرکاء سے خطاب
حساسیت کی بنا پر بنچ کی تشکیل
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے ایک جج کی ڈگری سے متعلق سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انتظامی اختیار کے تحت 2 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا۔ بنچ کی تشکیل چیف جسٹس ہائیکورٹ کا صوابدیدی اختیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے معروف فیملی وی لاگر رجب بٹ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آگئے
خصوصی بنچ کی تشکیل کی قانونی حیثیت
حکمنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی بنچ کی تشکیل کوئی پہلی مثال نہیں ہے۔ جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر تعصب کے اعتراض کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری اور دیگر ججز کی چیف جسٹس کے تبادلے کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت سے مسترد ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بچے سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو اجازت ہونی چاہیے: شرجیل میمن
اعتراضات کی عدم قانونی حیثیت
تحریری حکمنامہ کے مطابق، جج پر تعصب کی بنیاد پر بنچ سے علیحدگی کے اصول پر اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلے موجود ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ نے 1966 سے 2023 تک کے فیصلوں میں جج پر اعتراض کے اصول واضح کر چکی ہے، جبکہ جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر اعتراض کی کوئی قانونی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
ریکارڈ کی فراہمی کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے جسٹس جہانگیری کو درخواست کا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس جہانگیری کو یونیورسٹی کا جمع کرایا گیا مکمل جواب اور ریکارڈ بھی دینے کا حکم دیا گیا۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی فریق بنانے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔








