سڈنی میں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی، سور کے کٹے ہوئے سر رکھ دیئے گئے
سڈنی میں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی
سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی بیچ حملے کے بعد ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں پینے کے صاف پانی کے پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کر دیا
قبرستان میں جانوروں کے اعضا کی موجودگی
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوب مغربی سڈنی کے علاقے ناریلان میں واقع مسلم قبرستان میں نامعلوم افراد نے قبروں پر جانوروں کے اعضا، جن میں سور کے سر بھی شامل تھے، رکھ دیے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے 24 سرکاری ادارے فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا: وزیر خزانہ
پولیس کی تحقیقات
سڈنی پولیس نے بتایا کہ قبرستان کے داخلی دروازے سے بھی جانوروں کی باقیات برآمد ہوئیں، جب کہ قبروں پر رکھے گئے سور کے سروں کو ہٹا کر ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ داروں کی تلاش جاری ہے。
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس، پاک بھارت کشیدگی پر غور
مذہبی اور سماجی رہنماؤں کی مذمت
ادھر مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیک پال اور مائیک ٹائسن کی مڈبھیڑ: ایک یوٹیوبر کی 31 سال بڑے باکسنگ لیجنڈ کے خلاف لڑائی جو نیٹ فلکس پر براہ راست دکھائی جائے گی
بونڈی بیچ حملے کے متاثرین
مسلم رہنماؤں نے بونڈی بیچ حملے کے مبینہ حملہ آوروں کی میتیں وصول کرنے اور ان کے جنازے کی ادائیگی سے بھی انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بونڈی بیچ پر فائرنگ کے واقعے میں 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دہشتگردی کے لیے گروہ منظم کرنے والا دہشتگرد گرفتار
حملہ آور کی شناخت
پولیس کے مطابق یہ حملہ ایک یہودی تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں ملوث دونوں حملہ آور باپ بیٹا تھے۔ ایک حملہ آور پولیس کارروائی میں ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں زیر حراست ہے۔
فلپائن میں حملہ آور کی تصدیق
دوسری جانب فلپائن کی امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ مبینہ حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔








