اسلام آباد ہائیکورٹ کا درخواست گزار کو افغانستان ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی شہریت دینے اور افغانستان ڈی پورٹ نہ کرنے سے متعلق بختی جان کی درخواست پر وزارت سیفران کے فیصلے تک درخواست گزار کو افغانستان ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیاء کپ کے تاریخی فائنل میچ کا ٹاس ہو گیا
وزارت سیفران کو ہدایت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے وزارت سیفران کو درخواست گزار بختی جان کی پی او آر کارڈ منسوخی کی درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں 4 افراد زخمی
پی او آر کارڈ کے فیصلے کا معاملہ
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے کہ پی او آر کارڈ سے متعلق نادرا نے فیصلہ کرنا ہے۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ مشکوک شہریت سے متعلق ہے، کیا آپ کی اس درخواست کو رٹ پٹیشن میں تبدیل کردوں؟
یہ بھی پڑھیں: شام کے بعد اسرائیل نے ایک اور مسلمان ملک پر حملہ کردیا
عدالت کے نکات
جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ غلط گاڑی میں بیٹھے ہیں، سول کورٹ شہریت دینے کا حکم نہیں دے سکتی، شہریت دینا یا نہ دینا حکومت کی صوابدید ہے، اس کیس میں معاملہ یہ ہے کہ درخواست گزار افغان مہاجر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیز سیریز سے قبل 2 آسٹریلوی فاسٹ بولرز کو انجری کا سامنا
ججز کے مخصوص ذہن بارے گفتگو
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بعض دفعہ ججز بھی ایک مخصوص ذہن بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں، ججز درخواست کی گراؤنڈ دیکھتے ہی نہیں اور فیصلہ کردیتے ہیں، درخواست گزار کو ابھی معلوم ہوا ہے کہ اس کے والدین پاکستانی ہیں؟ درخواست گزار کو اپنا پی او آر کارڈ منسوخ کرانے کے بعد پھر شہریت کی درخواست دینا پڑے گی، شہریت کے لیے پی او آر کارڈ کی منسوخی لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ابوبکر، احتشام، بسمَل اور فجر ایچیسن کالج جونیئر نیشنل ٹینس کے فائنل میں پہنچ گئے
وزارت سیفران کی درخواست
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میں نے وزارت سیفران اور نادرا میں درخواست دی ہے جس پر فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔
کیس کی سماعت کا نتیجہ
عدالت نے وزارت سیفران کو درخواست گزار کی پی او آر کارڈ منسوخی کی درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کردی۔








