سندھ پولیس افسران کی سینیارٹی سے متعلق اپیلیں مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ پولیس افسران کی سینیارٹی سے متعلق اپیلیں مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کی تذلیل کی جو مثال آج قائم کی گئی ہے، وہ جمہوریت کے چہرے پر بدنما داغ ہے، شہریار آفریدی
3 رکنی بینچ کا فیصلہ
روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیز سیریز، آسٹریلیوی کپتان پیٹ کمنز باکسنگ ڈے ٹیسٹ سے باہر
سینیارٹی بحالی کا حکم
سپریم کورٹ نے 2019 سے قبل والی سینیارٹی بحال کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سینیارٹی بحالی کو آئینی حق قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے 1 ارب ڈالرز فیس نہیں دیں گے : انڈونیشیا
حکومت سندھ کی اپیلیں خارج
عدالت نے حکومت سندھ کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے متاثرہ افسران کو بروقت ترقی کے لیے اہل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسے بند کرو، بند کرو، وسیم بادامی کے شو کے دوران کسی نے زبردستی احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی
افسران کے حقوق کا دفاع
سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سندھ سروس ٹربیونل نے افسران کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ پولیس افسران کو 1991 میں سیاسی بنیادوں پر ملازمت سے فارغ کیا گیا تھا، 1994 میں آئی جی سندھ نے افسران کو ابتدائی تقرری کی تاریخ سے بحال کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹ لکھپت جیل میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا پارٹی قیادت کو اہم خط، اختلافات ختم کرکے آگے بڑھنے کا مشورہ
سینیارٹی کی تبدیلی پر وضاحت
عدالت نے کہا کہ بحالی کے وقت مالی فوائد نہ دینے اور اصل سینیارٹی برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، 2019 کی سینیارٹی لسٹ میں افسران کی تقرری کی تاریخ تبدیل کردی گئی تھی۔ سینیارٹی تبدیل کرنے سے قبل شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے دوران روسی تیل پاکستان کو سپلائی کیا جائے گا: روسی میڈیا
سندھ حکومت کی استدعا
واضح رہے کہ حکومت سندھ کی استدعا تھی کہ سینیارٹی 1990 کے بجائے 92991 کی تقرریوں سے جوڑی جائے۔
ٹربیونل کا فیصلہ
ٹربیونل نے 2019 کی سینیارٹی لسٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور افسران کی 1990 سے سینیارٹی بحال کرنے کا حکم دیا تھا。








