سندھ پولیس افسران کی سینیارٹی سے متعلق اپیلیں مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ پولیس افسران کی سینیارٹی سے متعلق اپیلیں مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں اضافہ
3 رکنی بینچ کا فیصلہ
روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد کی فیکٹری میں بوائلر پھٹنے کا افسوسناک واقعہ، وزیر داخلہ محسن نقوی کا قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
سینیارٹی بحالی کا حکم
سپریم کورٹ نے 2019 سے قبل والی سینیارٹی بحال کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سینیارٹی بحالی کو آئینی حق قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیوٹن نے وزیر کو برطرف کیا اس نے چند گھنٹوں بعد ہی خودکشی کرلی، روسی میڈیا نے اہم انکشاف کر دیا
حکومت سندھ کی اپیلیں خارج
عدالت نے حکومت سندھ کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے متاثرہ افسران کو بروقت ترقی کے لیے اہل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری: ایک حیرت انگیز واقعہ
افسران کے حقوق کا دفاع
سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سندھ سروس ٹربیونل نے افسران کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ پولیس افسران کو 1991 میں سیاسی بنیادوں پر ملازمت سے فارغ کیا گیا تھا، 1994 میں آئی جی سندھ نے افسران کو ابتدائی تقرری کی تاریخ سے بحال کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی فوج یا پولیس نہیں، پھر بھی یہ دنیا کے پرامن ترین ممالک میں شامل ہیں
سینیارٹی کی تبدیلی پر وضاحت
عدالت نے کہا کہ بحالی کے وقت مالی فوائد نہ دینے اور اصل سینیارٹی برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، 2019 کی سینیارٹی لسٹ میں افسران کی تقرری کی تاریخ تبدیل کردی گئی تھی۔ سینیارٹی تبدیل کرنے سے قبل شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پیر کی تدفین کے لیے ورثاء اور مریدوں میں جھگڑا، کچھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات
سندھ حکومت کی استدعا
واضح رہے کہ حکومت سندھ کی استدعا تھی کہ سینیارٹی 1990 کے بجائے 92991 کی تقرریوں سے جوڑی جائے۔
ٹربیونل کا فیصلہ
ٹربیونل نے 2019 کی سینیارٹی لسٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور افسران کی 1990 سے سینیارٹی بحال کرنے کا حکم دیا تھا。








