ایک ادارے نے اپنے ملازم کو سزا سنا دی، باقی کو بھی آگے بڑھنا چاہیے: عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ "ستھرا پنجاب" کے بعد اب "ستھرا پاکستان" کی مہم کا عملی آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم کے تحت احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ جو عناصر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اداروں میں احتساب نہیں ہوتا، ان کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ ایک ادارے نے اپنے ملازم کو سزا دے کر مثال قائم کی ہے، اور اب دیگر اداروں کو بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی عوامی خدمت پر مبنی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی آواز آج عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔ ماضی میں ہمیں یورپ اور برطانیہ کی مثالیں دی جاتی تھیں، مگر آج دنیا پنجاب کے ترقیاتی ماڈل اور شفاف گورننس کی مثالیں دے رہی ہے، جو پنجاب اور پاکستان دونوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 14 سال کی سزا ختم ہوگی تو اس کے بعد 17 سال کی سزا شروع ہوگی: عطاء تارڑ
دہشت گردی کے خلاف اقدامات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کی نئی لہر کے خلاف پاک فوج اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور عزم کے ساتھ برسرِپیکار ہیں۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن و خوشحالی کیلئے ہر گھر کو مرکز علم بنانا ہوگا: ڈاکٹر حسن قادری چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل
پنجاب حکومت کی اصلاحات
وزیر اطلاعات نے پنجاب کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے گورننس، شفافیت اور میرٹ کا ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے، جسے اب بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ "ستھرا پنجاب" ماڈل میں عالمی ادارے دلچسپی لے رہے ہیں اور اسے دیگر ممالک میں نافذ کرنے کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے، جو نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے لیے بھی اعزاز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کنگسٹن ٹیسٹ، آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو 27 رنز پر آل آؤٹ کرکے 176 رنز سے ہرا دیا
انکوائری کے نظام میں اصلاحات
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے افسران کے خلاف انکوائری کے نظام میں بڑی اصلاحات کی منظوری دی ہے۔ اب کسی بھی افسر کے خلاف انکوائری 3 ماہ میں مکمل کرنا لازم ہوگا تاکہ بے گناہ افراد کو طویل اذیت سے بچایا جا سکے اور قصورواروں کو بروقت سزا ملے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے راولپنڈی میں دوسرے آئی ٹی سٹی کے قیام کی منظوری دی ہے، جبکہ جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے تحت بین الاقوامی معیار کی سمارٹ ٹریفک لائٹس نصب کی جائیں گی، جن میں پیدل چلنے والوں کے لیے خصوصی بٹن سسٹم بھی شامل ہوگا۔ امتحانی نظام کی شفافیت مزید بہتر بنانے کے لیے ایک خودمختار اور آزاد ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو سکول انتظامیہ سے الگ ہو کر امتحانات کا انعقاد کرے گا، تاکہ مکمل میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ جاری
صحت کے شعبے میں بہتری
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں امتحانی نظام باقی تمام صوبوں سے بہت بہتر ہے۔ صحت کے شعبے میں فیصل آباد کے ہولی فیملی اسپتال میں درکار آلات کی فوری فراہمی، مری کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کو جنرل اسپتال کا درجہ دینے، اور گوجرانوالہ میں نئے کارڈیالوجی اسپتال کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جو عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے سرکاری ہسپتال سے ایک اور نومولود اغوا
محنت کشوں کے فلیٹس کی حوالگی
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے 720 محنت کشوں کے فلیٹس کی قرعہ اندازی مکمل کر کے 7 دن میں حوالگی کی ہدایت دی ہے، جبکہ مزید 1872 فلیٹس 18 ماہ میں مکمل ہوں گے۔ 36 لاکھ روپے مالیت کے یہ فلیٹس محنت کشوں کو بالکل مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے واضح ہدایات دیں ہیں کہ تمام بیواؤں اور معذور محنت کشوں کو بغیر قرعہ اندازی کے فلیٹس دیئے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے جدہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پرندہ ٹکرانے کے بعد کراچی میں اتار لی گئی
زراعت کے شعبے میں کامیاپیاں
زراعت کے شعبے میں گندم کی ریکارڈ پیداوار پر وزیر زراعت اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عظمٰی بخاری نے کہا کہ پنجاب نے ایک بار پھر اپنا ہدف کامیابی سے حاصل کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کسانوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم غیر متزلزل ہے۔ پنجاب میں ہونے والے یہ اقدامات محض پروگرامز نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں "معجزات" ہیں جو عوامی خدمت اور ترقی کے نئے باب رقم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور فلپائن کے قونصل جنرلز کی فلپائنی قونصلیٹ دبئی میں ملاقات
احتساب کا عمل
سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ ایک ادارے نے اپنے ملازم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سزا سنائی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ادارے بھی اسی سمت میں عملی اقدامات کریں۔ جو عناصر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت کرتے ہیں، یا کسی ایک سیاسی جماعت کے مفادات کے لیے معاملات کو موڑنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسی روایت کا اب مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔
مستقبل کی امیدیں
عظمٰی بخاری نے کہا کہ "ستھرا پاکستان" کی اصلاح کی مہم کو وہ آگے بڑھتا ہوا دیکھ رہی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان اثرات کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا، لیکن اب ایک واضح فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس طرزِ عمل کو "ون فار آل" ختم کیا جانا چاہیے۔








