مو لوی عبدالحق آڈیٹوریم کا افتتاح بھارتی وزیراعظم اندرکمار گجرال نے جبکہ اردو گھر کا افتتاح اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے خود کیا تھا۔

مصنف: رانا امیر احمد خاں

یہ بھی پڑھیں: روس نے سعودی شہریوں کے لیے ویزا فری سروس فراہم کرنے پر غور شروع کردیا

قسط: 249

اس ساری صورتحال کے باوجود انجمن اردو کے فروغ کے لیے ذاتی سطح پر خاصی کامیاب رہی ہے۔ مولوی عبدالحق کے دور سے اب تک 2 ہزار سے زائد ادبی اور تحقیقی کتب کی اردو زبان میں اشاعت انجمن کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انجمن کو کوئی امداد حکومت سے نہیں ملتی۔ البتہ انجمن ترقی اردو نے اپنے وسائل سے ایک چار منزلہ عمارت تعمیر کی ہے۔ اس کے ایک فلور پر ٹی وی چینل منورما کے دفاتر ہیں جبکہ باقی عمارت کا بھی ایک حصہ کرائے پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خانیوال کے قریب موٹروے پر ٹریفک حادثہ، بس ہوسٹس جاں بحق، 9 مسافر زخمی

کرائے کی یافت اور اخراجات

کرائے کی یافت سے انجمن کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔ انجمن کی اس عمارت میں قائم مولوی عبدالحق آڈیٹوریم کا افتتاح اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اندرکمار گجرال نے کیا تھا جبکہ اس عمارت یعنی اردو گھر کا افتتاح 23 اپریل 1962ء کو وزیراعظم اندرا گاندھی نے خود کیا تھا۔ انجمن کی کوششوں سے دہلی میں اردو کو دوسری بڑی زبان کا درجہ مقامی حکومت کے تسلیم کئے جانے کے باوجود اس بل کے مسودے کی فائل وزارت داخلہ اور چیف منسٹر کے دفاتر میں مسلسل چکر کاٹ رہی ہے اور اسے اسمبلی میں پیش کر کے قانون کی شکل دینے میں پراسرار فتری سرخ فیتے حائل ہیں۔ البتہ آندھرا پردیش اور صوبہ بہار میں اردو کو دوسری بڑی زبان کا درجہ دیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میری یہ قربانی دنیا کو بچانے کیلئے ضروری ہے” نشے میں دھت لڑکی نے اپنی دونوں آنکھیں نکال دیں

انجمن کی اہمیت

ہمارے سفرنامہ "بھارت درشن" کے مصنف ظفر علی راجا ایڈووکیٹ کے مطابق انجمن ترقی اردو سرزمینِ ہند میں اردو کی بقاء کا لہراتا ہوا پرچم ہے، یہ انجمن ایک جرأت انگیز علامت ہے۔ ایک بازوئے شمشیر زن ہے جو قتل گاہ اردو میں اس مظلوم زبان کو زبان بردگی سے بچانے کے لیے تاریخی جہاد میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے آبادی بڑھانے کے لیے نیا منصوبہ متعارف کروادیا

دہلی کا بھاگم بھاگ نظارہ

اردو گھر سے گاندھی فاؤنڈیشن واپس پہنچے تو قدرے آرام کے بعد راقم کے کمرے میں سب دوست مشاورت کے لیے جمع ہو گئے تاکہ دہلی میں آخری آدھا بقایا دن سے کیسے فائدہ حاصل کیا جائے۔ سجاد بٹ، اْمّ کلثوم اور مبّرا اعجاز کے بارے میں بار بار فون کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ چاندنی چوک کے ارد گرد پھیلی ہوئی مارکیٹوں میں موجود ہیں اور جی بھر کر خریداری میں مصروف ہیں۔ احباب کی خواہش کے پیشِ نظر فیصلہ ہوا کہ چاندنی چوک پر حملہ کیا جائے اور بعدازاں کچھ وقت ملے تو دو تین گھنٹے کے لیے ٹیکسی والے سے ٹھیکہ کر کے کچھ تاریخی مقامات کا سرپٹ دورہ کر لیا جائے۔

خریداری اور دہی بھلے

راقم کی فیملی کی طرف سے بیرون ملک کبھی کوئی چیز خرید لانے کی فرمائش نہیں کی گئی کیونکہ وہ میرا معمول جانتے ہیں کہ میں پاکستان میں رہتے ہوئے بھی مارکیٹوں کا رخ نہیں کرتا۔ صرف اپنے آفس جاتے آتے گھر کے سبزی فروٹ اور دیگر روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کی خریداری کرتا ہوں۔ البتہ اپنے نوزائدہ پوتے مبین عثمان عمر 3 ماہ کے لیے صبح مارکیٹ کے لیے روانگی کے وقت ایک ہزار روپے کی رقم محترمہ ام کلثوم صاحبہ کے سپرد کی تھی تاکہ وہ میرے پوتے کے لیے مناسب خریداری کر لے اور مجھے مارکیٹ جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ بہرحال سجاد بٹ صاحب اور خواتین نے بھارتی ڈیزائنروں کے تیار کردہ ملبوسات، طلائی زیورات، کپڑے وغیرہ، بچوں کے لیے کھلونے اور کپڑے، لہنگے نہ جانے کیا کچھ جی بھر کر خرید کیا۔ بعدازاں ہم سب لوگ مٹھائیوں کی مشہور دکان ہلدی رام میں گئے اور دہی بھلے کھائے۔ ان دہی بھلوں کی لذت لاہور کے دہی بھلوں سے بالکل الگ تھی۔ ہلدی رام، اپنی مٹھائیوں اور دہی بھلوں کے اپنے مخصوص ذائقوں کی وجہ سے یورپ امریکہ تک مشہور ہے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...