مستقبل میں جدید ریلوے کے سارے نظام کا نقطۂ آغاز گوادر پورٹ ہوگا، نئی پٹریاں جو دوسرے ممالک میں داخل ہوں گی سٹینڈرڈ گیج پر ہی بنائی جائیں گی

مصنف: محمد سعید جاوید

آخری قسط

ان ساری مشکلات کا سب سے سہل، قابل عمل اور کم لاگت والا حل فرانس کی ایک کمپنی نے نکالا ہے جو یورپ اور روس کے کئی مقامات پر نصب ہے اور بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس میں بوگیوں کے نیچے لگی ہوئی شافٹ، ایکسل اور پہیوں کی چوڑائی ایک خود کار طریقے سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ کسی ایسے مقام کا انتخاب کر لیا جاتا ہے جہاں پٹریوں کی چوڑائی مختلف گیج کی ہوتی ہے، وہاں ایک خاص نظام کے تحت گاڑی کے ایکسل اور شافٹ کی چوڑائی بدل دی جاتی ہے تو اسی حساب سے اس کے پہیوں کے بیچ کی چوڑائی بھی کم یا زیادہ ہو جاتی ہے اور گاڑی نئی پٹری کی چوڑائی کے مطابق خود بخود ترتیب میں آ جاتی ہے۔

بریک آف گیج

اس مقام کو، جہاں پٹریوں کا یہ گیج بدلتا ہے ریل کی زبان میں بریک آف گیج کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ انتظام صرف مسافر گاڑیوں کی بوگیوں اور مال گاڑی کے ڈبوں کے لیے ہی کارآمد ہے۔ کچھ تکنیکی وجوہات کی بناء پر فی الحال انجن کے پہیوں کی چوڑائی کو اس طریقے سے نہیں بدلا جا سکتا ہے اس لیے وہاں سے نیا انجن ہی گاڑی کو لے کر آگے بڑھے گا۔

نئے ریلوے نظام کے مقامات

اس میں بھی صرف ان مسافر اور مال گاڑیوں پر ہی یہ نظام نصب کیا جائے گا جو خصوصی طور پر بیرون ملک جانے کے لیے استعمال ہوں گی۔ اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے ابھی تک پاکستان کے نئے ریلوے نظام میں جن بریک آف گیج کے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہیں:

1. گوادر بندرگاہ

مستقبل میں جدید ریلوے کے سارے نظام کا نقطہئ آغاز گوادر پورٹ ہو گا اس لیے سوچا جا رہا ہے کہ وہاں سے شروع ہونے والی نئی پٹریاں جو بالآخر براہ راست دوسرے ممالک میں داخل ہوں گی وہ سٹینڈرڈ گیج پر ہی بنائی جائیں گی۔

2. مزار شریف، افغانستان

پاکستان سے افغانستان جانے والی پٹری براڈ گیج پر ہو گی اور وہ اسی طرح طورخم سے مزار شریف تک جائے گی۔ تاہم وہاں سے سٹینڈرڈ گیج کی پٹریاں آگے وسطی ایشیاء کے راستوں کی طرف نکلیں گی۔

3. کاشغر، چین

چین کے اندر سے ریلوے لائن اپنے نظام اور پٹری کے گیج کے تحت کاشغر آئے گی، جہاں ایک بریک آف گیج کا پوائنٹ دے کر اسے براڈ گیج پٹری پر منتقل کر دیا جائے گا جو خنجراب اور حویلیاں سے ہوتی ہوئی پاکستان کے ریلوے سسٹم میں ضم ہو جائے گی۔

4. تفتان

ایران اور ترکی سے ہوتی ہوئی جو گاڑیاں یورپ یا ان ممالک کی طرف نکلیں گی جہاں سٹینڈرڈ گیج استعمال ہو رہا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان ایران کے سرحدی مقام یعنی تفتان میں بھی ایک بریک آف گیج لگایا جائے۔

اختتام

اس کو اسٹیشن پر رخصت کر کے سوچتا آیا رستے میں، اب اس شہر میں گھر لینا ہے جس میں ریل نہ آتی ہو۔
ختم شد

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...