پولیس کانسٹیبل کے بری ہونے پر لڑکی کی خودکشی کی کوشش کا کیس نیا موڑ اختیار کر گیا، DNA لڑکی کے حقیقی چچا سے میچ کر گیا۔
قصور میں لڑکی سے زیادتی کا کیس
قصور (ڈیلی پاکستان آن لائن) 17سالہ لڑکی سے زیادتی اور خودکشی کی کوشش کا کیس نیا موڑ اختیار کرگیا۔ ڈی این اے لڑکی کے حقیقی چچا سے میچ کرگیا، ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں اور ایس پی انویسٹی گیش محمد ضیاء الحق نے پریس کانفرنس میں تفصیلات سے آگاہ کردیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا، جبکہ چیئر پرسن پنجاب وویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے بھی جناح ہسپتال لاہور کا وزٹ کیا اور متاثرہ لڑکی کی تیمار داری کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: گارمنٹ سٹی میں پہلے بیچ کی ووکیشنل ٹریننگ مکمل، ہنرمند بننے کے بعد کوئی آپ کو کمزور نہیں سمجھے گا: وزیر اعلیٰ مریم نواز
پہلا واقعہ اور تفتیش
پولیس کے مطابق سال 2022 میں گنڈاسنگھ کے نواحی گاؤں بگے کے رہائشی جاوید اقبال نے اپنی بیٹی کیساتھ زیادتی کا مقدمہ اسی گاؤں کے رہائشی ملزم پولیس کانسٹیبل محمد رفیق کے خلاف درج کروایا تھا۔ تھانہ گنڈاسنگھ والا پولیس نے ملزم رفیق کو گنہگار قرار دیکر نوکری سے برخاست کردیا تھا۔ لڑکی نے ایک نومولود بچے کو جنم دیا جو بعدازاں چلڈرن ہسپتال لاہور میں جاں بحق ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو سرکاری ذرائع سے ترسیلات زر لانے پر انعامی رقم میں کمی کا فیصلہ
ڈی این اے کی تحقیقات
پولیس نے بچے کی ڈیڈ باڈی ڈی این اے کیلئے پنجاب فرانزک لیبارٹری لاہور پہنچائی اور ڈیڈ باڈی سے سیمپل حاصل کیے گئے۔ فرانزک لیب سے رپورٹ موصول ہونے پر نومولود بچے کو ڈی این اے ملزم رفیق کیساتھ میچ نہیں ہو سکا، بعدازاں ایڈیشنل سیشن جج قصور نے ملزم رفیق کو 5 دسمبر کو مقدمہ میں بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت رواں سال گندم کی خریداری کرے گی یا نہیں؟ فیصلہ ہوگیا
خودسوزی کی کوشش
عدالت میں پیشی کے بعد مدعی مقدمہ جاوید اقبال اپنی بیٹی کے ہمراہ واپس گاؤں جارہا تھا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قریب لڑکی نے فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کی بجائے خودسوزی کی کوشش کی جو جناح ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان پر حملے کے مرکزی ملزم نوید کی درخواست ضمانت مسترد
تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرنا
ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر نے ملزم رفیق کا ڈی این اے میچ نہ ہونے پر ضلعی پولیس کو ایک لیٹر تحریر کیا کہ تفتیش کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے کسی سینئر آفیسر کو تفتیش مامور کیا جائے، تاکہ مرکزی ملزم کی نشاندہی کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں آج یکم ربیع الاول ،پاکستان میں بھی چاندنظر آنے کا امکان
نیا ملزم
ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کی ہدایت پر ایس پی انویسٹیگیشن محمد ضیا الحق کی سربراہی میں ڈی ایس پی سٹی سیف اللہ بھٹی پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی۔ تفتیشی ٹیم نے تفتیش کے دائرہ کار کو وسیع کیا اور اسی گاؤں کے رہائشی کے پانچ مشکوک افراد کے ڈی این اے کیلئے فرانزک لیب لاہور لیجایا گیا۔
ملزم کی گرفتاری
بعدازاں فرانزک لیب سے رپورٹ موصول ہونے پر ڈی این اے متاثرہ خاتون کے حقیقی چچا زاہد کیساتھ میچ کر گیا۔ تھانہ گنڈاسنگھ والا پولیس نے ملزم زاہد کو گرفتار کرلیا ہے، مزید شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔








