پی آئی اے کی نجکاری آخری مراحل میں داخل
پی آئی اے کی نجکاری کا عمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اب الٹی گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی
کنسورشیم کے ساتھ ملاقاتیں
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، پی آئی اے انتظامیہ اور چاروں کنسورشیم کے آفیشلز کی سی ای او پی آئی اے اور دیگر اعلی افسران سے ہفتے کے دن ملاقات اور اجلاس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کلائمیٹ چینج واریئر بن کر عالمی سطح پر پنجاب کی شناخت بڑھائیں گے: وزیر تعلیم پنجاب
کراچی میں بیٹھک
ذرائع کے مطابق، پی آئی اے خریداری میں دلچسپی رکھنے والے کنسورشیم گروپس کی ہفتے کے دن کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس میں بیٹھک ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرے، بین الاقوامی امن کیلئے ایرانی حملےسنگین خطرہ ہیں: اماراتی مندوب
اجلاس کی تفصیلات
ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی کنسورشیم کے اجلاس پی آئی اے حکام اور نجکاری کمیشن حکام سے روزانہ بنیادوں پر ریکارڈ اور تفصیلات مانگ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا دل سے شکریہ، ایران کا 2 ہفتوں کیلئے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
بولی لگانے کے لیے تیاری
چار کنسورشیم نے پی آئی اے کی بولی لگانے کے لیے فنانس اور ایچ آر کے ماہرین سے مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کلو آٹے کا تھیلا 300 روپے مہنگا
آخری اجلاس
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ای او پی آئی اے، چیف ایچ آر افسر، چیف فنانس افسر سمیت پی آئی اے کے اعلی حکام کے ساتھ تمام کنسورشیم کے حکام کا آخری اجلاس ہوا ہے۔ تمام کنسورشیم اپنی بولی 23 دسمبر کو پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے خلاف کیوں اسکواڈ میں شاہین شاہ آفریدی کو شامل نہ کرنے کی وجہ سامنے آ گئی
پی آئی اے کی مکمل معلومات
ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کنسورشیم کو پی آئی اے حوالے کی جائے گی۔ پی آئی اے کے پاس اس وقت 34 طیارے اور 90 سے زائد روٹس ہیں۔ کنسورشیم کو پی آئی اے کے ملازمین کا ریکارڈ، ملکی و بین الاقوامی پروازوں کی یومیہ و ماہانہ آمد سمیت دیگر تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا یوٹیوبر رجب بٹ اور ایمان کے درمیان طلاق ہو چکی ہے؟ ساس نے حقیقت بتادی
عملے کی تفصیلات
اس کے علاوہ پی آئی اے کے پائلٹس، ایئرکرافٹ انجینئرز، فضائی میزبانوں اور گراؤنڈ اسٹاف کی مکمل تفصیلات بھی کنسورشیم کو فراہم کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی اگر نیشنل سیکیورٹی کے راستے میں حائل ہوئے تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو گا، رانا ثنا اللہ
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن پی آئی اے خریدنے والے کنسورشیم کے ذمے نہیں ہوگی۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ سے بھی پی آئی اے خریداری کے لیے چاروں کنسورشیم کو مکمل تفصیلات فراہم کرنے اور تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔
شفاف عمل کی یقین دہانی
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے شفاف عمل کے تحت بولی کو میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔








