پی آئی اے کی نجکاری آخری مراحل میں داخل
پی آئی اے کی نجکاری کا عمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اب الٹی گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر
کنسورشیم کے ساتھ ملاقاتیں
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، پی آئی اے انتظامیہ اور چاروں کنسورشیم کے آفیشلز کی سی ای او پی آئی اے اور دیگر اعلی افسران سے ہفتے کے دن ملاقات اور اجلاس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اعظم سواتی کی 8 مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری منظور
کراچی میں بیٹھک
ذرائع کے مطابق، پی آئی اے خریداری میں دلچسپی رکھنے والے کنسورشیم گروپس کی ہفتے کے دن کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس میں بیٹھک ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: والدین کی طرف سے بچے کے دل و ذہن میں راسخ کیے گئے ندامت کے احساسات بڑے ہونے پر ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید پختہ ہوئے ہوتے ہیں
اجلاس کی تفصیلات
ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی کنسورشیم کے اجلاس پی آئی اے حکام اور نجکاری کمیشن حکام سے روزانہ بنیادوں پر ریکارڈ اور تفصیلات مانگ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی پرواز کراچی سے حیدر آباد موٹروے کے راستے پر
بولی لگانے کے لیے تیاری
چار کنسورشیم نے پی آئی اے کی بولی لگانے کے لیے فنانس اور ایچ آر کے ماہرین سے مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: FCIT نے 2025 ICPC ایشیا ٹوپی ریجنل آن سائٹ کانٹیسٹ کی میزبانی اور کوہوسٹنگ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں
آخری اجلاس
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ای او پی آئی اے، چیف ایچ آر افسر، چیف فنانس افسر سمیت پی آئی اے کے اعلی حکام کے ساتھ تمام کنسورشیم کے حکام کا آخری اجلاس ہوا ہے۔ تمام کنسورشیم اپنی بولی 23 دسمبر کو پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بیگم مسعودہ نقشبندی سماجی حلقوں میں جانی پہچانی خاتون تھیں، ان کے ساتھ کام کرنا آسان تھا، میرا قیام راولپنڈی میں طویل ترین رہا۔
پی آئی اے کی مکمل معلومات
ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کنسورشیم کو پی آئی اے حوالے کی جائے گی۔ پی آئی اے کے پاس اس وقت 34 طیارے اور 90 سے زائد روٹس ہیں۔ کنسورشیم کو پی آئی اے کے ملازمین کا ریکارڈ، ملکی و بین الاقوامی پروازوں کی یومیہ و ماہانہ آمد سمیت دیگر تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ قدرت کا انتقام ہے، فواد چودھری
عملے کی تفصیلات
اس کے علاوہ پی آئی اے کے پائلٹس، ایئرکرافٹ انجینئرز، فضائی میزبانوں اور گراؤنڈ اسٹاف کی مکمل تفصیلات بھی کنسورشیم کو فراہم کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، سری لنکا، زمبابوے کرکٹ سیریز، سیکیورٹی کیلئے آرمی اور رینجرز کے دستے طلب
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن پی آئی اے خریدنے والے کنسورشیم کے ذمے نہیں ہوگی۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ سے بھی پی آئی اے خریداری کے لیے چاروں کنسورشیم کو مکمل تفصیلات فراہم کرنے اور تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔
شفاف عمل کی یقین دہانی
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے شفاف عمل کے تحت بولی کو میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔








