1. ایڈیشنل ججز کی ایک سالہ مدت مکمل ہونے سے قبل ہی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کا اجلاس
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ کے 9 ایڈیشنل ججز کی ایک سال کی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا، ہائیکورٹ کے 9 ججز کی کارکردگی کی رپورٹس جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اکاؤنٹ سے کیش پیسے نکلوا کر پرائیویٹ کمپنی کو منتقل کیے گئے، رکن قومی اسمبلی شہلا رضا کا الزام
ایڈیشنل ججز کی مدت اور حلف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے 9 ایڈیشنل ججز نے 10 فروری 2025 کو عہدے کا حلف اٹھایا تھا، ایڈیشنل ججز کی ایک سال کی مدت 10 فروری 2026 کو مکمل ہونی ہے لیکن نو ایڈیشنل ججز کو مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستقل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا، اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جنوری کے دوسرے ہفتے میں طلب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاست میں بیعت نہیں: مولانا فضل الرحمان
ایڈیشنل ججز کی تفصیلات
9 ایڈیشنل ججز میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر ڈوگر، جسٹس احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک اویس خالد اور جسٹس چودھری سلطان محمود شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا خلیجی ممالک کا دفاع نہیں کر سکا، عرب ممالک امریکا کی بجائے اپنی سکیورٹی پاکستان کے حوالے کریں گے؛ جاوید چودھری
کارکردگی کی رپورٹس
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کو خط لکھ کر 9 ایڈیشنل ججز کی جانب سے کئے گئے فیصلوں سے متعلق رپورٹس طلب کی گئی تھیں جس پر ہائی کورٹ نے 9 ججز کی کارکردگی سے متعلق رپورٹس جوڈیشل کمیشن کو ارسال کر دی۔
عدالتی نظائر کے فیصلے
رپورٹس کے مطابق جسٹس حسن نواز مخدوم نے 10 ماہ میں 7 ایسے فیصلے جاری کئے جنہیں عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے 17 ، جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے 11، جسٹس احسن رضا کاظمی نے 19، جسٹس جاوید اقبال وینس نے 22، جسٹس جواد ظفر نے 17، جسٹس خالد اسحاق نے 18، جسٹس ملک اویس خالد نے 15 اور جسٹس سلطان محمود نے 12 ایسے فیصلے جاری کئے جنہیں عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس حوالے سے ان فیصلوں کو قانونی زبان میں reported judgement کہا جاتا ہے۔








