پشاور ہائیکورٹ؛ وکلاء خود فیصلے نہیں مانیں گے تو دوسروں سے کیسے منوائیں گے، جج کے ریمارکس
پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی سماعت
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے وکلاء کو سخت تنبیہ کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: حارث رؤف کی پیس نے آسٹریلوی بیٹنگ کی خامیوں کو ایکسپوز کیا، جیسن گلیسپی کا بیان
عدالتی فیصلوں کا احترام
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق دوران سماعت جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ وکلاء جب خود عدالتی فیصلے نہیں مانیں گے تو پھر عام افراد سے کیسے عدالتی احکامات تسلیم کروائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
وکلاء کی ذمہ داری
جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ہم تو صرف رائے دیتے ہیں، کسی کو اسے ماننا ہے یا نہ ماننا ان کی مرضی ہے، لیکن جب وکلاء ہمارے فیصلے کی پاسداری نہیں کریں گے تو دوسروں سے کیسے منوائیں گے؟
درخواست گزار کا موقف
وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار پہلی بار پیش ہوئے ہیں اور عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے۔








