پاکستانی پروفیسر چین میں درختوں کی بیماریوں کی تشخیص کرکے مشہور ہو گیا
چائے کا فن اور علی شوکت کی داستان
گوانگ ژو(شِنہوا) ابلتا ہوا پانی، پیالوں کو گرم کرنا، پتیاں دھونا اور کشید کرنا، اٹھتی ہوئی بھاپ اور مسحور کن خوشبو کے درمیان چائے کا یہ نفیس فن عموماً چینی چائے کے ماہرین سے منسوب کیا جاتا ہے مگر چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر گوانگ ژو میں واقع ساؤتھ چائنہ ایگریکلچرل یونیورسٹی (ایس سی اے یو) میں پاکستانی ایسوسی ایٹ پروفیسر علی شوکت بھی اسی مہارت سے یہ فن پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا معاملہ، پی ٹی آئی چیف وہپ عامر ڈوگر کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اہم ملاقات
چین کی چائے کی ثقافت
چین کی چائے کی ثقافت انتہائی گہری ہے۔ علی شوکت نہ صرف چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ چائے کے پودوں کا ’’علاج‘‘ بھی کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں شوکت اور ان کی ٹیم گوانگ ڈونگ کے شہر چاؤ ژو کے فینگ ہوانگ ٹاؤن میں کام کر رہی ہے جو اولونگ چائے کی پیداوار کے لئے مشہور علاقہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ سمارٹ فونز جن پر اب واٹس ایپ کو استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا
چائے کے پودوں کا غیر ملکی ڈاکٹر
یہاں شوکت سبز کیڑوں کے تدارک اور قدیم چائے کے درختوں کی بحالی کے منصوبوں کی قیادت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگ انہیں ’’چائے کے پودوں کا غیر ملکی ڈاکٹر‘‘ کہتے ہیں۔ شوکت کا چین سے تعلق 2006 میں قائم ہوا۔ انہوں نے پاکستان کی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد متعدد ڈاکٹریٹ پروگراموں میں داخلہ حاصل کیا مگر چین کا انتخاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حملے کے بعد خطرات مزید بڑھے ہیں، شبلی فراز
کیڑے مار ادویات کا چیلنج
2018 کے اواخر میں فینگ ہوانگ ٹاؤن کے چائے کے کاشتکار ایک بحران کا شکار ہوگئے، جہاں ان کے چائے کے پودے نامعلوم وجوہات کی بنا پر مرجھانے لگے۔ اس پر مقامی حکومت نے ایس سی اے یو سے مدد طلب کی۔ شوکت اور ان کی ٹیم نے چائے کے باغات کا دورہ کیا اور پھپھوندی کے انفیکشن کا شبہ ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان انویسٹرز فورم کے زیرِ اہتمام یادگار غزل نائٹ، کامیاب انتخابات کی خوشی میں شاندار ثقافتی محفل
کسانوں کا اعتماد حاصل کرنا
کسانوں کا اعتماد حاصل کرنا ایک چیلنج تھا۔ شوکت کے مطابق چائے کے کاشتکار ہم پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ مگر ہمت نہ ہارتے ہوئے، انہوں نے متاثرہ پودوں کے نمونے جمع کرکے لیبارٹری میں تجربات کیے اور ایک نئی بیماری کی نشاندہی کی۔
یہ بھی پڑھیں: فل کورٹ اور آئینی بینچ کے حوالے سے رکن جوڈیشل کمیشن نے اہم سوال اٹھا دیا
نایاب چائے کے پودے بچانا
شوکت کی کوششوں سے تقریباً 60 نایاب اور خطرے سے دوچار چائے کے قدیم پودے محفوظ ہوئے۔ مقامی محکمہ زراعت کے محقق لی گوئی بین نے کہا کہ انہوں نے بیماری پر قابو پانے کے حل تلاش کئے، جس سے چائے کے کاشتکاروں کے نقصانات کم ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے دفاعی معاہدے پر ترانہ ریلیز کردیا
چین کی دیہی ترقی
شوکت نے برسوں کے دوران چین کے دیہی علاقوں کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ دیہی چین میں آنے والی تبدیلیوں کی وہ مثال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چاہے پہاڑی علاقہ کتنا ہی دور ہو، اگر وہاں لوگ رہتے ہیں تو وہاں سڑکیں، بجلی اور پانی دستیاب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹرز بابراعظم سے حسد کرتے ہیں، اعظم خان
ماہرین کی تعیناتی
چین کی دیہی ہنرمندی کی ترقی پر توجہ کی وجہ سے، گوانگ ڈونگ نے دیہی احیا کے لئے 2 ہزار سے زائد زرعی سائنسی ماہرین کو تعینات کرنے کا پروگرام شروع کیا۔ شوکت اور ان کی ٹیم فینگ ہوانگ ٹاؤن میں پائیدار چائے کی پیداوار کے لئے جدید طریقوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی شکست قبول نہیں، چین نے یورپی یونین کو آگاہ کر دیا
بین الاقوامی تعاون کی قدر
ایس سی اے یو میں تقریباً 2 دہائیوں پر محیط قیام کے دوران، شوکت نے بین الاقوامی تعاون میں بھی پل کا کردار ادا کیا ہے۔ 2017 میں انہوں نے چین-پاکستان مشترکہ تحقیقی مرکز قائم کیا جو افرادی تبادلے اور جدید کیڑوں کے تدارک کی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کے لئے کام کرتا ہے۔
علی شوکت کا اعزاز
پاکستانی حکومت نے علی شوکت کو زرعی سائنسی اختراع اور بین الاقوامی سائنسی و تکنیکی تعاون میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے نوازا ہے۔ انہوں نے زرعی ٹیکنالوجی میں جدت اور بین الاقوامی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔








