بونڈائی بیچ حملہ، زندہ بچ جانے والے ملزم نوید اکرم پر 59 الزامات عائد کردیے گئے۔
سڈنی کی فائرنگ کا واقعہ
کینبرا (ڈیلی پاکستان آن لائن) سڈنی کے علاقے بونڈائی بیچ میں اتوار کو ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں زندہ بچ جانے والے ملزم نوید اکرم پر 59 الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں 15 قتل کے الزامات اور ایک دہشت گردی کی کارروائی کا الزام بھی شامل ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق 24 سالہ نوید اکرم اس وقت شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے کرکٹ میں نئے قوانین متعارف کرادیے
واقعے کی تفصیلات
بی بی سی کے مطابق واقعے کے دوران پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں نوید اکرم کے والد 50 سالہ ساجد اکرم ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں مجموعی طور پر 15 افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ حملے میں ایک ایسے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا تھا جو یہودی برادری کی جانب سے حنوکا کے پہلے دن کی تقریب کے طور پر منعقد کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ 1996 کے بعد آسٹریلیا میں پیش آنے والا سب سے ہلاکت خیز فائرنگ کا واقعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ نے پہلے ون ڈے میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی
مزید الزامات
پولیس کا کہنا ہے کہ نوید اکرم پر 40 مزید الزامات ایسے ہیں جن میں قتل کی نیت سے شدید جسمانی نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں، جبکہ اس پر ایک ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کا نشان عوامی طور پر ظاہر کرنے کا مقدمہ بھی قائم کیا گیا ہے۔ ملزم کی ابتدائی سماعت اسپتال کے بستر سے ہی کی گئی، جبکہ عدالت نے کیس کی کارروائی اپریل 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اعزازیہ پروگرام برائے امام مسجد صاحبان کیلیے خصوصی ڈیسک قائم، صرف 10 روز میں کتنی رقم تقسیم کر دی گئی؟ جانیے
تفتیش اور متاثرین کی حالت
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر مال لینن کے مطابق ملزم سے باضابطہ تفتیش اس وقت کی جائے گی جب ادویات کا اثر ختم ہو جائے گا تاکہ وہ مکمل طور پر صورتِ حال کو سمجھ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے تقاضوں کے تحت یہ ضروری ہے کہ ملزم کو معلوم ہو کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد وسیم نے ڈبلیو بی ایف کے رینکنگ میچ میں جارجین باکسر کو ناک آؤٹ کردیا
صحت کی صورتحال
بدھ کی شام تک سڈنی کے مختلف اسپتالوں میں 17 زخمی زیر علاج ہیں، جن میں ایک کی حالت نازک جبکہ چار دیگر کی حالت تشویشناک مگر مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے اس واقعے کو باضابطہ طور پر دہشت گردی قرار دیا ہے، جبکہ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ بظاہر یہ حملہ داعش کی نظریاتی سوچ سے متاثر معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی بچت سکیموں میں منافع کی شرح تبدیل کر دی گئی
سفر کی تفصیلات
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نوید اکرم اور اس کے والد نومبر میں فلپائن کا سفر کر چکے تھے۔ فلپائن کے امیگریشن حکام کے مطابق دونوں یکم نومبر سے 28 نومبر تک فلپائن میں موجود رہے اور ان کی آخری منزل جنوبی شہر داؤاؤ تھی۔ نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر سفر کیا، جبکہ ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ استعمال کیا۔
خاندانی معلومات
بھارتی حکام کے مطابق ساجد اکرم کا تعلق بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد سے تھا، تاہم ان کے وہاں اپنے اہل خانہ سے روابط محدود تھے۔








