امریکا میں غیر قانونی آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا، صدر ٹرمپ
ٹرمپ کا خطاب: بائیڈن کی پالیسیاں واپس نہیں آئیں گی
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بائیڈن دور کی پالیسیاں دوبارہ نافذ نہیں ہونے دی جائیں گی اور امریکا میں غیر قانونی آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج ملک بھر میں یوم دفاع منایا جا رہا ہے
غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ
قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو کسی صورت امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہیں کرپشن کے خاتمے کے لیے عوامی مینڈیٹ ملا اور ایک سال میں انہوں نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو کوئی اور حاصل نہ کر سکا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 5 خوارج ہلاک
معاشی بہتری کی دعوے
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں امریکا بدترین حالات سے نکل کر بہترین مقام پر پہنچا، امریکی شہریوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا جبکہ کھانے پینے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور امریکا کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر تازہ سیاسی، قانونی مسئلے کو بار کے اجلاسوں میں اٹھا دینا گویا اپنے اْوپر لازم کررکھا تھا، یوں وکلاء کو مجبور کرتے کہ قومی مسائل پر غور و فکر کریں
منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کو زمین اور سمندر کے راستوں سے 94 فیصد تک کم کر دیا گیا، کئی بڑے اقدامات ٹیرف پالیسی کی بدولت ممکن ہوئے، جس سے ملکی معیشت کو بہتر بنایا گیا اور امریکا میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن بنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کے اداروں کی رائٹ سائزنگ، فیصلوں پر عملدرآمدشروع
امن کے قیام کے اقدامات
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوائیں، ایران کے جوہری خطرے کو تباہ کیا اور غزہ کی جنگ ختم کر کے تین ہزار سال میں پہلی بار امن قائم کیا، زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا گیا اور تمام کو وطن واپس لایا گیا۔
اختتام
خطاب کے اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کو نئی قانون سازی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن صدر کی ضرورت تھی، جو انہوں نے ثابت کر کے دکھا دیا ہے۔








