ڈی ایس پی کے ہاتھوں اہلیہ اور بیٹی کا قتل پولیس افسران کے لیے نئی مشکلات پیدا کر گیا
قتل کا معاملہ
لاہور (ویب ڈیسک) ڈی ایس پی عثمان حیدر کے ہاتھوں اہلیہ اور بیٹی کے قتل کا معاملہ پولیس افسران کے لیے نئی مشکل بن گیا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران ڈی ایس پی کے خلاف 302 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے میں شش وُپنج کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صومالی قذاقوں سے خوفزدہ پاکستانی اور ایرانی مچھیرے: “یہ اپنی موت کی طرف خود بڑھنے جیسا ہے”
پولیس کی خاموشی
ایکسپریس نیوز کے مطابق اہلیہ اور بیٹی کے قتل کے معاملے میں پولیس تاحال ڈی ایس پی عثمان حیدر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج نہیں کرسکی۔ 3 روز گزرنے کے باوجود پولیس اور پراسیکیوشن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ گزشتہ روز پولیس مدعی خاتون کو لے کر پراسیکیوٹر جنرل کے پاس بھی پیش ہوئی، تاہم پراسیکیوشن کے 2 سرکاری وکلا بھی تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ پنجاب نے قیدیوں کیلئے ماہرین نفسیات کے ایس او پیز جاری کر دیئے
مقدمہ کی درخواست
پولیس نے فی الحال مدعی پارٹی کی اندراج مقدمہ درخواست بھی وصول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ مقتولین کی شناخت لواحقین کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئی تھی اور پولیس کے پاس صرف ڈی ایس پی کا اعتراف جرم کا بیان ہے۔ مقتولین کے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تھی جب کہ پولیس نے تاحال لواحقین کو لاشیں بھی وصول نہیں کروائی ہیں۔
مدعیہ کی شکایت
مدعیہ کا الزام ہے کہ پولیس 3 روز سے اعلیٰ افسران کے دفاتر کے چکر لگوا رہی ہے اور ہمیں کچھ نہیں بتایا جارہا ہے کہ پولیس نے عثمان حیدر کے ساتھ کیا کرنا ہے۔








