لاہور ہائی کورٹ نے سنوکر کلب کے کاروبار کو جائز اور قانونی قرار دیدیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سنوکر کلب کے کاروبار کو جائز اور قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنوکر کلب چلانا قانونی اور تفریحی سرگرمی ہے کوئی قانون اس پر پابندی عائد نہیں کرتا۔ عدالت نے شہری کا سنوکر کلب بند کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوشکی، احمد وال سٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیاگیا
اپیل اور تحریری فیصلہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد ظفر نے شہری محمد راشد کی اپیل پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں تمام مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے ، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ
آئینی حقوق کا دفاع
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق ہر شہری کو قانونی بزنس کرنے کا حق ہے۔ بیلیرڈ اور سنوکر کے کھیل غیر اخلاقی نہیں، نہ ہی قانون کے تحت ممنوع ہیں۔ قانونی دائرے میں چلنے والے کاروبار کو مبہم شکایات پر غیر معینہ مدت کیلئے بند نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: چلغوزے کی قیمت میں ریکارڈ کمی، 8 ہزار روپے کلو سستا ہو گیا
مخالف درخواست اور مجسٹریٹ کا حکم
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے وضاحت کی کہ وہ سرگودھا میں سنوکر کلب چلاتا تھا جو عوام کو بیلیرڈ گیم کھیلنے کی تفریح فراہم کرتا تھا۔ تاہم، مخالف نے درخواست گزار کا سنوکر کلب بند کرنے کیلئے علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جس میں کہا گیا کہ کلب رات دیر تک کھلا رہتا ہے اور شوروغل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
سی آر پی سی سیکشن 133 کی تشریح
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مجسٹریٹ نے سی آر پی سی سیکشن 133 کے تحت سنوکر کلب بند کرنے کا حکم دیا، جبکہ سنوکر کلب اس سیکشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ سیکشن 133 کے اختیارات صرف ہنگامی اور وقتی عوامی خلل کی صورت میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فیصلے تک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط
عدالتی اختیارات کا درست استعمال
مزید کہا گیا کہ کاروبار پر مکمل پابندی عدالتی اختیارات کا غلط استعمال ہے۔ شور یا اوقاتِ کار کو ریگولیٹ کیا جا سکتا تھا، مکمل پابندی ضروری نہیں تھی۔ ٹرائل کورٹ نے قوانین کی درست تشریح نہیں کی۔
نتیجہ
عدالت سنوکر کلب بند کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتی ہے اور درخواست گزار کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ تمام قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے دوبارہ سنوکر کلب کھول سکتا ہے۔








