لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: مسافر کو جہاز سے اتارنے پر تحریری وجہ دینا لازمی قرار
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک جانے والے کسی بھی شہری کو آف لوڈ کرنے کی صورت میں متعلقہ حکام کو فوری طور پر تحریری وجوہات فراہم کرنے کا پابند قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنہیں بجلی کے بلوں میں کمی نظر نہیں آ رہی ان کی آنکھوں پر پٹی پڑی ہے: اویس لغاری
عبوری تحریری حکم
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عبوری تحریری حکم جسٹس علی ضیاء باجوہ نے درخواست گزار چودھری شہریار قندیل کی درخواست پر جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ عمر سرفراز چیمہ وہ ہے جو گورنر رہے ہیں؟ سپریم کورٹ کا استفسار
شہریوں کی آئینی آزادی
عدالت نے واضح کیا ہے کہ انتظامی صوابدید خواہ کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو شہریوں کی آئینی آزادی سلب کرنے کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شہری کی طبیعت خراب، دوحہ جانیوالی پرواز کی کراچی میں ایمرجنسی لینڈنگ
سفری دستاویزات کی ضرورت
فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی مسافر کے پاس مکمل سفری دستاویزات موجود ہوں تو مناسب قانونی کارروائی پر عمل کئے بغیر اسے سفر سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا 4 ملکی دورہ مکمل، تاجکستان سے وطن واپس پہنچ گئے
ایف آئی اے کی وضاحت
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے افسران نے معاونت کے لیے مہلت طلب کی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ کن قانونی دفعات کے تحت مسافروں کو روانگی سے عین قبل آف لوڈ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، بجٹ 10 جون کو ہی پیش کیا جائے گا: سیکرٹری خزانہ
قانونی شقوں کی ہدایت
عدالت نے لاء افسران کو ہدایت کی کہ وہ قانونی شقیں عدالت کے سامنے رکھیں جو ایسے اقدامات کا اختیار فراہم کرتی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بھکر میں اغوا اور قتل کیس کا ڈراپ سین، بیوی اور آشنا ہی شہری کے قاتل نکلے
ذاتی آزادی کی پابندیاں
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے واضح کیا کہ جہاں بھی ریاست کسی شہری کی ذاتی آزادی پر پابندی عائد کرنا چاہے اسے اس کے لیے واضح قانونی اختیار دکھانا ہوگا، محض انتظامی فیصلے کی بنیاد پر کسی شخص کو بیرونِ ملک سفر سے روکنا آئین کے تحت دی گئی آزاد نقل و حرکت کے حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکپتن میں ڈکیتی کے دوران لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا سنسنی خیز موڑ
تحریری وجوہات کی ضرورت
سماعت کے دوران سرکاری لاء افسر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو پرواز سے اتارنے کے حوالے سے کوئی تحریری وجوہات ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں تاہم انہیں تحریری وجوہات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 1ہزار روپے اضافہ
حقِ داد رسی کے تحفظ کی ضمانت
عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو آف لوڈ کرنے کے وقت ہی تحریری وجوہات فراہم کرنا لازم ہے کیونکہ یہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ شہری کے حقِ داد رسی کے تحفظ کی بنیادی ضمانت ہے۔
آزادیٔ نقل و حرکت کی خلاف ورزی
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ مناسب قانونی کارروائی کے اصولوں کی خلاف ورزی آئین میں دی گئی آزادیٔ نقل و حرکت کی صریح خلاف ورزی تصور ہو گی.








