وزیراعلیٰ بہار کی جانب سے نقاب کھینچنے پر مسلم خاتون ڈاکٹر نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ
مسلمان خاتون ڈاکٹر کا فیصلہ
نئی دہلی (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بہار کی جانب سے نقاب کھینچنے پر مسلم خاتون ڈاکٹر نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مٹی کا ایک ایک ذرہ بنیان مرصوص بن کر لڑے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار
بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی ہراسانی کا شکار خاتون ڈاکٹر ذہنی دباؤ اور ڈر و خوف میں مبتلا ہوگئی۔ خاتون ڈاکٹر کے بھائی کا کہنا ہے کہ بہن نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ اس وقت ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوار محمد حسین شہید (نشان حیدر) کی 53ویں برسی، پاکستان کی مسلح افواج کا خراج عقیدت
واقعہ کی تفصیلات
واضح رہے کہ 2 روز قبل بھارتی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں بی جے پی کے اتحادی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام سے متعلق بل پر بات نہ کی تو 18ویں ترمیم بھی ختم ہوگی اور سندھ میں صوبہ بھی بنے گا، مصطفیٰ کمال
تقریب اور تقریر
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں روایتی اور دیسی طریقہ علاج کی وزارت 'آیوش' کی جانب سے آیوش ڈاکٹروں کو ملازمت کا تقرر نامہ (Appointment Letter) دینے کی تقریب رکھی گئی تھی جس میں وزیراعلیٰ بہار آیوش ڈاکٹروں کو تقرر نامہ دے رہے تھے۔
تنقید اور قانونی کارروائی
نقاب کھینچنے کو بھارتی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور انسانی حقوق تنظیموں نے شرمناک قرار دیا جس کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریڈی کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لکھنو میں سماجی وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے.








