وزیراعلیٰ بہار کی جانب سے نقاب کھینچنے پر مسلم خاتون ڈاکٹر نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ
مسلمان خاتون ڈاکٹر کا فیصلہ
نئی دہلی (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بہار کی جانب سے نقاب کھینچنے پر مسلم خاتون ڈاکٹر نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: وکلاء ملک کی سول سوسائٹی اور عوام سب مل کر بھی کسی گناہ گار کو معافی نہیں دے سکتے, وگرنہ بہت سے لوگ معافی حاصل کرنے کے حقدار بن جائیں گے
ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار
بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی ہراسانی کا شکار خاتون ڈاکٹر ذہنی دباؤ اور ڈر و خوف میں مبتلا ہوگئی۔ خاتون ڈاکٹر کے بھائی کا کہنا ہے کہ بہن نے سرکاری ملازمت جوائن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ اس وقت ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسام کے وزیرِ اعلیٰ نے بڑی سیاسی جماعت کے رکنِ پارلیمنٹ پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کا الزام لگا دیا، ثبوت بھی پیش کرنے کا دعویٰ
واقعہ کی تفصیلات
واضح رہے کہ 2 روز قبل بھارتی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں بی جے پی کے اتحادی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وقت کو پیچھے لے جانے کی خواہش: ایک ایسی لت جس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہے
تقریب اور تقریر
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں روایتی اور دیسی طریقہ علاج کی وزارت 'آیوش' کی جانب سے آیوش ڈاکٹروں کو ملازمت کا تقرر نامہ (Appointment Letter) دینے کی تقریب رکھی گئی تھی جس میں وزیراعلیٰ بہار آیوش ڈاکٹروں کو تقرر نامہ دے رہے تھے۔
تنقید اور قانونی کارروائی
نقاب کھینچنے کو بھارتی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور انسانی حقوق تنظیموں نے شرمناک قرار دیا جس کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریڈی کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لکھنو میں سماجی وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے.








