پردے کا سخت مخالف ہوں، اس نظریے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی خاتون کے ساتھ نامناسب رویے کو قبول کیا جائے، جاوید اختر
جاوید اختر کا متنازعہ واقعے پر ردعمل
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متنازع مذہبی خیالات رکھنے والے مشہور بھارتی نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر کا مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے معاملے پر ردعمل سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پردے کا سخت مخالف ہوں، تاہم اس نظریے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی خاتون کے ساتھ نامناسب رویے کو قبول کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ایران کے مشیر قومی سلامتی علی لاریجانی کی ملاقات
نتیش کمار کے عمل کی مذمت
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے جو عمل سامنے آیا ہے، وہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ معاملہ صرف نظریات یا خیالات کے اختلاف تک محدود نہیں بلکہ ایک خاتون کے وقار، عزت اور احترام سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے رویے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں زیرسماعت کیس کی عدالتی دستاویز چوری
عوامی عہدے کے تقاضے
جاوید اختر نے مزید کہا کہ ایک عوامی عہدے پر فائز شخص سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر شہری، خصوصاً خواتین، کے ساتھ انتہائی ذمہ داری، احترام اور شائستگی کا مظاہرہ کرے۔ اس واقعے نے نہ صرف عوام کو مایوس کیا ہے بلکہ خواتین کے تحفظ اور عزت کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بابا صدیقی کو گولی مارنے والا شوٹر گرفتار، گینگ سے رابطہ کس طرح ہوا؟ دوران تفتیش انکشافات
وزیراعلیٰ سے معافی کا مطالبہ
وزیراعلیٰ نتیش کمار کو چاہیے کہ وہ متعلقہ خاتون ڈاکٹر سے غیر مشروط معافی مانگیں تاکہ اس طرح کے واقعات کے خلاف ایک واضح اور مثبت پیغام دیا جا سکے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ مگر کسی کی تضحیک یا دل آزاری کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
جاوید اختر کا ٹویٹ
Every one who knows me even in the most cursory manner knows how much I am against the traditional concept of Parda but it doesn’t mean that by any stretch of imagination I can accept what Mr Nitish Kumar has done to a Muslim lady doctor. I condemn it in very strong words. Mr…
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) December 18, 2025








