21 دسمبر کو ملک گیر احتجاج ہوگا، جماعت اسلامی اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، حافظ نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ 21 دسمبر کو ملک گیر احتجاج ہوگا، جماعت اسلامی اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر کی علیمہ خان پر انڈہ پھینکنے کے واقعہ کی مذمت، بانی کی فیملی کو فول پروف سکیورٹی دینے کا مطالبہ
بلدیاتی ایکٹ پر تنقید
حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں جو بلدیاتی ایکٹ پاس ہوا ہے یہ جمہوریت پر ایک دھبا ہے۔ یہ جو سینیٹ اور اسمبلیوں میں کر رہے ہیں، اب اس کو نچلی سطح پر بھی لے کر جارہے ہیں۔ پنجاب میں آخری بار 2015 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے۔ یہ حکومت شہر کے میئر سے بھی ڈرتی ہے کہ کہیں وہ وزیراعلیٰ کو چیلنج ہی نہ کردے۔ یہ صرف نعرے ہی لگاتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو، یہ عوام کا مسئلہ ہے، یہ عام ورکر کا معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں مذہبی مقامات کی ترقی و بحالی حکومتی سرپرستی میں یقینی بنائی جائے گی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی
حکومت کی ناکامیوں کا ذکر
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سارے کے سارے محکمے اپنے اندر رکھ لیے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی گورننس بہت اچھی ہے۔ اگر آپ کی گورننس اچھی ہے تو آج کسان ڈے ہے، آپ نے کیا کیا ہے؟ آپ کسان کے حالات بہتر بنا سکتے تھے، لیکن آپ نے سب کچھ تباہ کردیا ہے۔ بھارت میں کھاد سستی ہے، جبکہ پاکستان میں مہنگی۔ یہ کون بتائے گا کہ آپ نے لوگوں کو کیا سہولت دی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: سلیکشن کمیٹی گھر جائے ،ورنہ گرین شرٹس بنگلادیش سے بھی ہارے گی : باسط علی
عوامی احتجاج کا شیڈول
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ہم نے عوامی احتجاج کے لیے ایک شیڈول بنا لیا ہے۔ آپ بینظیر سپورٹ کے نام پر لوگوں کو لائنوں میں لگا کر ان کی تذلیل کرتے ہیں۔ وہ کون سی امپورٹ ہے جس کو آپ نے کم کیا ہے؟ آپ آئی ایم ایف کی چند باتیں تو مانتے ہیں لیکن جس کی زد میں آپ آئیں، وہ نہیں مانتے ہیں۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے؟ آپ کی پالیسیوں سے پاکستان کی معیشت کو خطرہ ہے۔
نظام کی تبدیلی کی ضرورت
حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ہمیں سب کو مل کر اس نظام کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ یہ جو 26 اور 27ویں ترمیم لاتے وقت اکٹھے ہو جاتے ہیں، وہ اس نظام میں اپنا کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ خاندانی سیاست نے 25 کروڑ عوام پر قبضہ کیا ہوا ہے۔








