نہ میں سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترامیم پر تشویش
چکوال (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے آئین میں تیز ترامیم کا رجحان تشویش ناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آئین کی اہمیت کو مجروح کر رہا ہے، جو کہ ایک میثاقِ ملی کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، ڈیفنس میں مزدوروں پر تشدد کرنے والا بااثر شخص گرفتار کر لیا گیا
چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کا موازنہ
انہوں نے بتایا کہ چھبیسویں ترمیم میں کم از کم ایک ماہ اور ایک ہفتے تک مشاورت کی گئی، جبکہ ستائیسویں ترمیم کو جبراً دو تہائی اکثریت کے زور پر پاس کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں یہ آئین متنازع ہو جائے گا کیونکہ عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ضمنی انتخابات، قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی 6 نشستوں پر لیگی امیدواروں کو برتری حاصل
زنا بالجبر کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ
مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی ذکر کیا، جس میں زنا بالجبر کی سزا بیس سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ جائز نکاح کے معاملات میں رکاوٹیں ڈالیں جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے عمر قید کاٹنے والے ملزم کو قتل کے مقدمے سے بری کردیا
سیاسی ملاقاتوں پر پابندی
مزید یہ کہ انہوں نے سیاستدانوں کی گرفتاریوں اور ملاقاتوں پر پابندیوں کی مذمت کی۔ ان کا سوال ہے کہ آخر حکومت کس کی ہے اور فیصلے کون کر رہے ہیں؟
میڈیا کے ساتھ گفتگو
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی چکوال میں میڈیا سے گفتگو
اتنی تیزی کے ساتھ آئین میں ترامیم کا جو رجحان ہے، وہ آئین کی اہمیت کو مجروح کر رہا ہے، حالانکہ آئین ایک میثاقِ ملی ہے۔ چھبیسویں ترمیم میں کم از کم ایک ماہ اور ایک ہفتے تک مشاورت ہوتی رہی… pic.twitter.com/pVbugV7X0u— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) December 18, 2025








