دبئی میں شدید بارشوں کا الرٹ، شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت
دبئی پولیس کی ہدایات
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) دبئی پولیس نے جمعرات کے روز شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ شدید بارشوں کے پیشِ نظر گھروں میں ہی رہیں اور صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی باہر نکلیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں بارش کے باعث متعدد سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی میں یہ پہلی عید ہے جو فاتح قوم کے طور پر منارہے ہیں: شرجیل میمن
غیر مستحکم موسمی حالات
اے ایف پی کے مطابق پولیس کی جانب سے شہریوں کے موبائل فونز پر جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر مستحکم موسمی حالات آئندہ چند گھنٹوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے، اس لیے جمعہ دوپہر تک غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واہگہ بارڈر لاہور پر تعمیر کئے گئے ارینا کا افتتاح کردیا
ملک بھر میں بارش کی توقعات
متحدہ عرب امارات کے نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM) کے مطابق جمعرات سے جمعہ تک ملک کے مختلف حصوں میں بارش متوقع ہے، جن میں دبئی اور دارالحکومت ابو ظہبی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جمائمہ خان کے ایکس پر فالورز میں کمی
دیگر خلیجی ممالک میں بارش
خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی شدید بارشوں کی زد میں رہے۔ سعودی عرب اور قطر میں موسلا دھار بارش ہوئی، جبکہ قطر میں بارش کے باعث عرب کپ کا ایک میچ منسوخ کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: بلیوں کے ذریعے انسانوں میں کون سی خطرناک بیماری منتقل ہوسکتی ہے؟ نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی
پچھلے سال کی بارشوں کا اثر
واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں بھی متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں تھیں، جن کے نتیجے میں گھروں میں پانی داخل ہو گیا تھا اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی اور دبئی ایئرپورٹ، جو دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے، شدید متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی نے 28 ویں ترمیم کی مشروط حمایت کر دی
بارشوں کے نقصانات
یہ بارشیں گزشتہ 76 برسوں میں سب سے زیادہ تھیں، جن کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تین فلپائنی مزدور اور ایک اماراتی شہری شامل تھا۔
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات
ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن (WWA) گروپ کی ایک تحقیق کے مطابق، فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی عالمی حدت نے گزشتہ سال یو اے ای اور عمان میں ہونے والی ان شدید بارشوں کی شدت میں “غالباً اضافہ” کیا۔








