ملکی ترقی کے لیے ملک میں بدلے لینے کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا، حافظ عبدالکریم
جمعیت اہلحدیث کے امیر کی تقریر
جدہ(محمد اکرم اسد) جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لئے ملک میں بدلہ لینے کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔ تلخیاں ختم کرکے سب سیاستدان ایک پیج پر آکر ملک کو آگے کی طرف لے جائیں۔ اس وقت ملک ترقی کی طرف گامزن ہے، اور ہمیں اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ معیشت بہتری کی طرف جارہی ہے، اور سرحدیں محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ پاک فوج نے دشمن کو زمین چٹا دی ہے۔ دنیا میں اس وقت پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا پی ٹی وی کے نیوز پروڈیوسر خواجہ شاہد محمود کے انتقال پر اظہار افسوس
عشائیہ میں خطاب
یہ بیان وہ جمعیت اہلحدیث جدہ کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے جانے والے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کر رہے تھے، جس میں ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر سہیب احمد میر محمدی، نائب امیر جمعیت اہلحدیث، مختار احمد عثمانی چیف آرگنائزر، مولانا عمر فاروق، اور عبدالقیوم نے بھی خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئس کریم میں استعمال ہونے والی وہ چیز جو آپ کی آنتوں اور معدے کو تباہ کرسکتی ہے
جمعیت اہلحدیث کی تاریخ
سینٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیت اہل حدیث کی تاریخ مثبت سیاست، اور مذہبی معاملات میں اہم مقام رکھتی ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک مثبت سیاست میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلی قیادت نے اپنے طرز عمل سے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ جماعت اہل حدیث نے اپنی کوششوں سے سود کے نظام کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اور حکومت نے بھی سود کی شرح کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سود کو بلکل ختم کیا جائے، کیونکہ سود سے رزق کو نقصان ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونے کی قیمت میں 10 ہزار 7 سو روپے کی بڑی کمی
مہنگائی اور عوام کی مشکلات
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی پر کنٹرول ہورہا ہے لیکن عوام کو ابھی بھی پریشانیاں ہیں۔ حکومت دن رات محنت کر رہی ہے کہ عوام کو معیشت کا مثبت ثمر ملے۔ ہماری سیاست میں حکومت حزب اختلاف پر ظلم کرتی ہے، اور جب حزب اختلاف حکومت میں آتی ہے تو وہ بھی ظلم کرتی ہے۔ کوئی حزب اختلاف حکومت کو پانچ سال پورے نہیں کرنے دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: سفارت خانہ پاکستان ابو ظہبی میں نئے تزئین و آرائش والے نادرا ہال کا افتتاح
عشائیہ میں شرکت
عشائیے میں جمعیت اہلحدیث اور جدہ کمیونٹی کے سرکردہ افراد اور مقامی صحافیوں نے شرکت کی۔ ان سے پوچھا گیا کہ جمہوریت میں تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، مگر آج ایک جماعت کی سیاست اور 9 مئی جیسے واقعات کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کیسے کی جائے؟ کیا ان سے بات چیت ہونی چاہیے؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی حدود میں ایک انچ بھی داخل نہ ہونے دو” ایئر چیف کے احکامات اور کشیدگی کا فیصلہ کن مرحلہ کون سا تھا؟ مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔
سیاسی بات چیت کی ضرورت
سینٹر عبدالکریم نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم سیاستدانوں سے بات نہیں کریں گے، عسکری قیادت سے بات کریں گے، وہ اصل میں سیاست نہیں کر رہے۔ 9 مئی کے اقدامات اور ملک کے خلاف بیانیہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسلام نے انصاف کی بات کی ہے، انہیں قرار واقعی سزا دے کر ملک کو آگے کی طرف گامزن کرنا ضروری ہے۔
اسلامی تعلیمات کی اہمیت
عشائیہ میں تقریر کرتے ہوئے مولانا عبدالقیوم سلفی نے حاضرین کو دعوت دی کہ ہمارے اسلامی لیکچرز میں شرکت کریں اور دین کو مضبوط کریں۔ ممتاز اسکالر ڈاکٹر سہیب احمد میر محمدی نے اسلامی تاریخ اور زندگی کو اللہ اور رسولﷺ کے احکامات کے مطابق چلانے کی تبلیغ کی۔ مولانا مختار عثمانی نے کہا کہ ہم کسی کا دُم چھلا نہیں، ہم اپنی آزاد سیاست کرتے ہیں اور جو ملک کے لئے بہتر ہو وہ کرتے ہیں۔ تقریب کی نظامت فیصل علوی نے کی جبکہ مولانا عمر فاروق نے سپاسنامہ پیش کیا۔








