سابق جج طارق محمود جہانگیری نے پنشن کے اہل ہونے پر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا تھا : دی نیوز کا دعویٰ

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق جہانگیری کو ڈگری تنازع کیس میں جج کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بھاٹی گیٹ: نامزد ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور،ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا

ریٹائرمنٹ کا ارادہ

دی نیوز نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ طارق محمود جہانگیری آئندہ ماہ کے اوائل میں ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ وہ بعد از ریٹائرمنٹ پنشن کے فوائد حاصل کر سکیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو ان کا تقرر کالعدم قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میرا شوہر گھر کے کام کرواتا ہے اور انسٹاگرام استعمال نہیں کرنے دیتا، خاتون نے شکایت کر دی۔

بار کے ارکان کی خواہشات

ذرائع کے مطابق اسلام آباد بار کے ارکان چاہتے تھے کہ طارق محمود جہانگیری پنشن کے حصول کے لیے لازمی سمجھی جانے والی کم از کم 5 سال کی سروس مکمل ہوتے ہی ریٹائر ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: چوروں نے سنارکی دکان کا صفایا کردیا، 5 کروڑ سے زائد کا سونا اور نقدی لے اڑے

پنشن کے اہلیت کی شرائط

بحیثیت جج ان کی 5 سالہ مدت 31 دسمبر کو مکمل ہو رہی تھی، جس کے بعد وہ یکم جنوری 2026 سے پنشن کے اہل ہو جاتے۔ اس حوالے سے بار ارکان نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے بھی رابطہ کیا تھا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ طارق محمود جہانگیری کم از کم مطلوبہ مدت مکمل کرنے کے فوراً بعد، یعنی یکم جنوری کو ریٹائر ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سموگ کنٹرول کے لیے محکمہ ماحولیات کو عملی اقدامات کا حکم

استعفیٰ کی خبریں

قواعد کے مطابق جو جج 5 سالہ سروس مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑ دے، وہ پنشن فوائد کا حقدار نہیں ہوتا، ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ طارق جہانگیری نے 31 دسمبر کے بعد مؤثر (Post-Dated) استعفیٰ وزیر قانون کو دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ، جسٹس آغا فیصل کو جوڈیشل انکوائری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا جج نامزد کردیا گیا

تصدیق کے لیے رابطہ

تاہم جب دی نیوز نے تصدیق کیلئے رابطہ کیا تو وزیر قانون اور نہ ہی طارق محمود جہانگیری نے سوال کا جواب دیا۔

عدالت کا حکم

گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ طارق محمود جہانگیری جج کے طور پر تقرری کے اہل نہیں تھے، عدالت نے وزارتِ قانون و انصاف کو انہیں عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ فیصلہ دو رکنی بینچ نے سنایا جس کی سربراہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کر رہے تھے۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...