سابق جج طارق محمود جہانگیری نے پنشن کے اہل ہونے پر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا تھا : دی نیوز کا دعویٰ
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق جہانگیری کو ڈگری تنازع کیس میں جج کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹوبہ ٹیک سنگھ میں فصل میں گھسنے پر بھینس کی ٹانگیں توڑ دی گئیں، تین ملزمان گرفتار
ریٹائرمنٹ کا ارادہ
دی نیوز نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ طارق محمود جہانگیری آئندہ ماہ کے اوائل میں ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ وہ بعد از ریٹائرمنٹ پنشن کے فوائد حاصل کر سکیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو ان کا تقرر کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خاتون پائلٹ نے بوائے فرینڈ سے جھگڑے کی وجہ سے خود کشی کر لی
بار کے ارکان کی خواہشات
ذرائع کے مطابق اسلام آباد بار کے ارکان چاہتے تھے کہ طارق محمود جہانگیری پنشن کے حصول کے لیے لازمی سمجھی جانے والی کم از کم 5 سال کی سروس مکمل ہوتے ہی ریٹائر ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ٹیکس کیس، آئینی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا
پنشن کے اہلیت کی شرائط
بحیثیت جج ان کی 5 سالہ مدت 31 دسمبر کو مکمل ہو رہی تھی، جس کے بعد وہ یکم جنوری 2026 سے پنشن کے اہل ہو جاتے۔ اس حوالے سے بار ارکان نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے بھی رابطہ کیا تھا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ طارق محمود جہانگیری کم از کم مطلوبہ مدت مکمل کرنے کے فوراً بعد، یعنی یکم جنوری کو ریٹائر ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کے بعد چنئی سے کولمبو جانے والی سری لنکن ایئرلائنز کی پرواز کی سری لنکا میں مکمل طور پر تلاشی لیکن دراصل کیا شبہ تھا؟ حیران کن خبر آ گئی۔
استعفیٰ کی خبریں
قواعد کے مطابق جو جج 5 سالہ سروس مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑ دے، وہ پنشن فوائد کا حقدار نہیں ہوتا، ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ طارق جہانگیری نے 31 دسمبر کے بعد مؤثر (Post-Dated) استعفیٰ وزیر قانون کو دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشا دیول اور بھرت تکھتانی کی طلاق کی ممکنہ وجہ سال بعد سامنے آگئی
تصدیق کے لیے رابطہ
تاہم جب دی نیوز نے تصدیق کیلئے رابطہ کیا تو وزیر قانون اور نہ ہی طارق محمود جہانگیری نے سوال کا جواب دیا۔
عدالت کا حکم
گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ طارق محمود جہانگیری جج کے طور پر تقرری کے اہل نہیں تھے، عدالت نے وزارتِ قانون و انصاف کو انہیں عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔
یہ فیصلہ دو رکنی بینچ نے سنایا جس کی سربراہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کر رہے تھے۔








