ناصر باغ کو چھیڑنے سے پہلے دس بار سوچنا چاہئے تھا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ ناصر باغ کو چھیڑنے سے پہلے دس بار سوچنا چاہئے تھا، یہ لاہور کی شناخت ہے، اسے کیوں چنا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، رانا ثنا اللہ
سموگ تدارک کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کے حوالے سے درخواستوں پر جسٹس شاہد کریم نے سماعت کی۔ عدالت نے پی ایچ اے کو آئندہ سماعت پر پارکوں کی بحالی سے متعلق پالیسی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: چینی طیارے نے جدید ترین ’غیر ملکی‘ اسٹیلتھ طیاروں پر نشانہ باندھ کر انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا
فضائی آلودگی کے اثرات
عدالت نے قرار دیا کہ فضائی آلودگی زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سے پھیل رہی ہے۔ محکمہ ماحولیات کو چاہیے کہ تمام محکموں کی گاڑیوں کی فٹنس چیک کرے۔ محکمہ ماحولیات کے وکیل کو عدالت نے کہا کہ آپ کی اینٹی سموگ تو فارغ ہے، ان کو کسی اور کام پر لگا دیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق بھارتی کپتان دھونی پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد
فضائی آلودگی کے خلاف اقدامات
ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ محکمہ ماحولیات نے نواز شریف آئی ٹی سٹی کے پراجیکٹ میں بھی فضائی آلودگی پھیلنے پر ایکشن لیا، یہاں ہر وقت گرد ہی گرد تھی، تین ٹھیکیداروں کو پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے قریبی ساتھیوں کا کردار مشکوک ہے، بشریٰ بی بی کی بہن کا بیان
ناصر باغ کے مستقبل پر سوالات
عدالت نے استفسار کیا کہ ناصر باغ کا کیا بنا ہے، وکیل ایل ڈی اے نے بتایا کہ ایل ڈی اے اور پی ایچ اے نے ناصر باغ کے حوالے سے ایک سیشن کیا۔ ناصر باغ کی ٹوٹل جگہ ایک سو چار کینال ہے، اس میں سے گیارہ کینال پر پراجیکٹ ہو رہا ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے پوچھا کہ ناصر باغ کو ہی اس پراجیکٹ کے لئے کیوں چنا گیا؟ اولڈ ٹولنٹن مارکیٹ میں بھی ایک پارکنگ پلازہ بنا رہے تھے جسے میں نے روک دیا ہے، وکیل ایل ڈی اے نے بتایا کہ ناصر باغ کے اطراف میں عدلیہ اور تعلیمی ادارے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائیاں، 41 دہشتگرد ہلاک
سول سوسائٹی کی تشویش
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مجھے کہیں سے معلومات ملیں کہ ناصر باغ میں درخت کٹ رہے ہیں۔ عدالت کو سول سوسائٹی کی طرف سے بتایا گیا کہ ہم ڈی جی ایل ڈی اے کی میٹنگ سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔
عدالت نے سول سوسائٹی کو کہا کہ اگر آپ لوگ ایل ڈی اے کی میٹنگ سے مطمئن نہیں ہیں تو ناصر باغ پروجیکٹ کو عدالت میں چیلنج کریں، ناصر باغ کو چھیڑنے سے پہلے دس بار سوچنا چاہئے تھا، مجھے نہیں سمجھ آتی ناصر باغ کو کیوں چنا گیا کہ یہ لاہور کی شناخت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا: ترجمان دفتر خارجہ
تاریخی ورثے کا تحفظ
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اورنج لائن اور میٹرو نے پہلے ہی ہمارے تاریخی ورثے کو خراب کیا ہے۔ یہاں بیسیوں ایسی جگہیں ہیں جہاں یہ پراجیکٹ ہو سکتا تھا، اگر آپ پنجاب اسمبلی سے آگے آئیں تو یہ لاہور ہے جسے بچانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات، 14 اضلاع کی 28 نشستوں پر پولنگ
درختوں کی کٹائی پر حساسیت
انہوں نے مزید کہا کہ باقی تو اب ڈی ایچ اے اور مختلف پراجیکٹ بن ہی گئے ہیں۔ میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر بہت زیادہ حساس ہوں، اگر مجھے پتہ چلا کہ پی ایچ اے کی منظوری کے بغیر درخت کٹے ہیں تو خود فوجدارای کارروائی کراؤں گا۔
آئندہ سماعت کی تاریخ
عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔








